خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 65

خطبات طاہر جلد ۹ 65 خطبه جمعه ۲۶ / جنوری ۱۹۰ ۱۹۹۰ ان کو زیادہ مسکرا کر ملتے ہیں، ان کی آنکھوں میں وہ ایک محبت کے آثار دیکھتے ہیں، وہ شیطان ہیں ان سے ان کو بچنا چاہئے وہی جراثیم ہیں جو ان پر حملہ کرنے کے لئے آرہے ہیں اگر وہ ان کو اپنا سمجھیں گے تو ضرور ہلاک ہو جائیں گے۔اس وقت ان کو بیدار مغزی سے سوچنا چاہئے کہ یہ لوگ پہلے کہاں رہتے تھے۔کیا صرف اسی لئے میں ان کا محبوب ہو گیا ہوں کہ میں نظام جماعت سے بدظن ہو رہا ہوں۔دوسرے ایسے لوگ ہیں وہ بھی ایک شرک کے نتیجے میں رخنہ پیدا ہوتا ہے جو بعض دفعہ ٹولیاں بنا کر اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے لگ جاتے ہیں دو چار اونچی با تیں کرنے والے لوگ یا مضبوط جسم کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور ایک جگہ اٹھنا بیٹھنا شروع ہو گئے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اب ایک مضبوط ٹولہ ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ ہمیں نیچادکھا سکے۔ان میں سے کوئی ایک جرم کرتا ہے کوئی ایک شرارت کرتا ہے جس کو نظام پکڑتا ہے تو وہ پھر دوڑتا ہے اپنے ٹولے کی طرف اور اس ٹولے میں سہارا ڈھونڈتا ہے یعنی ایک خدا کو مان کر چھوٹے چھوٹے بت بنا لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری طاقت کا انحصار اس ٹولے پر ہے۔حالانکہ سچا مومن اور سچا مسلمان وہ ہے جس کی طاقت کا انحصار کلیۂ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے اس کی طاقت کا انحصار اطاعت میں ہے، بغاوت میں نہیں ہے۔جو شخص بھی اطاعت سے نکلتا ہے وہ اسلام سے باہر چلا جاتا ہے اور جو اسلام سے باہر چلا جائے اس کے لئے ایمان کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔نہ دنیا رہتی ہے نہ دین رہتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس سلسلے میں جو نصیحت فرمائی وہ میں آپ کے سامنے رکھ کہ اب اس خطبے کو ختم کرتا ہوں۔یہ مسلم کی روایت ہے۔صلى الله عن عبد الله بن عمر قال سمعت رسول الله عليه يقول من خلع يدا من طاعة لقى الله يوم القيامة لا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية۔(مسلم کتاب الاماره حدیث نمبر: ۳۴۴۱) کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اطاعت سے اپنا ہاتھ نکال لیا۔قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی کوئی دلیل نہیں ہوگی کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ وہ بخشا جائے۔