خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 537
خطبات طاہر جلد ۹ 537 خطبه جمعه ۴ ار ستمبر ۱۹۹۰ء کی روحیں خدا کی طرف مائل ہو جاتی ہیں اور خدا سے تعلق پیدا کر لیتی ہیں اور اس دنیا میں ہی خدا کی طرف بار بار جھکنے سے ان کو لذت محسوس ہوتی ہے مرنے کے بعد کی زندگی میں یہی ان کی جنت بنے گی کیونکہ مرنے کے بعد خدا اور بندے کی روح کے درمیان سے پردے اٹھا دئیے جائیں گے اور جو چیز یہاں حسین دکھائی دے رہی تھی جب وہ پر دے کم ہوں گے تو اور زیادہ حسین دکھائی دے گی اور یہی حقیقی جنت ہے جو مومن کی جنت ہے۔چنانچہ قرآن کریم ان لوگوں کو جو اس دنیا میں خدا سے راضی ہو گئے ہوں اور خدا ان سے راضی ہو گیا ہو، ان کو یہی خوشخبری دیتا ہے۔يَآيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً أَ فَادْخُلِي فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي انفجر ۲۸ (۳۱) کہ اے وہ نفس مطمئنہ ! جو خدا سے راضی رہا اور جس سے خدا راضی ہو گیا فَادْخُلِي فِي عِبدِي آج میرے عباد کی جنت میں داخل ہو جاؤ وَادْخُلِي جَنَّتِی۔میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔پس حقیقی جنت وہی ہے جس کی بناء اس دنیا میں ڈالی جاتی ہے اور وہ محبت الہی کی جنت ہے۔قیامت کے بعد کی زندگی میں جونئی روحانی زندگی ہوگی کیونکہ بندے کی روح اور خدا کی روح کے درمیان فاصلے نسبت کے لحاظ سے کم دکھائی دیں گے اور خدا کا حسن زیادہ شان کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اس لئے خدا کے قرب کا جلوہ ہی ان روحوں کے لئے جنت بن جائے گا۔وہ کس طرح متمثل ہوتی ہے کن شکلوں میں ڈھلتی ہے اس کے کچھ نظارے قرآن کریم نے پیش فرمائے ہیں لیکن وہ تمثیلات ہیں۔ایسی تمثیلات ہیں جن کو ہمیں سمجھانے کی خاطر پیش کیا گیا ہے ورنہ نہ تو اس قسم کے باغات ہیں جیسے ہم باغات دیکھتے ہیں، نہ ہی وہ واقعہ اس دودھ کی نہریں ہیں جسے ہم دودھ جانتے ہیں نہ ہی ویسا شہد وہاں بہتا ہوا دکھائی دے گا جیسا شہر ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں۔اگر ایسا ہوتا تو ہمیں یہ نہ بتایا جاتا کہ جنت ایک ایسی چیز ہے جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔پس یہ ساری باتیں جو ہم قرآن کریم میں پڑھتے ہیں یا جن کا ذکر سنتے ہیں ان کو ہماری آنکھ نے اس دنیا میں دیکھا بھی ہوا ہے اور ہمارے کانوں نے ان کا ذکر سنا بھی ہے۔پس یہ کیسے ممکن ہو گیا کہ ایک طرف تو ہم دیکھ بھی رہے ہوں اور سن بھی رہے ہوں ، دوسری طرف ہمیں یہ بتایا جائے کبھی کسی آنکھ نے اس جنت کو نہیں دیکھا جو جنت خدا نے اپنے بندوں کے لئے محفوظ رکھی ہے اور کبھی کسی کان نے اس جنت کا ذکر نہیں سنا حالانکہ اس کا ذکر قرآن کریم میں ہم پڑھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں۔