خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 416 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 416

خطبات طاہر جلد ۹ 416 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۹۰ء ہے۔یعنی رزق کا بھی نقصان اور لوگوں کے معدوں کا بھی نقصان اور مزاج کا بھی نقصان اور پھر باتوں کی وجہ سے اور روحانی لحاظ سے بھی نقصان پہنچ جاتے ہیں۔اس لئے اس دفعہ ایک شکایات کا دفتر اس رنگ میں کھولنا چاہئے کہ جس میں ہرشا کی اپنی شکایت بلا تاخیر ڈال دے اور اُسی رات یا اگر افسر شکایات جو بھی مقرر ہو وہ ضروری سمجھے کہ یہ اس نوعیت کی شکایت ہے کہ فوری طور پر مجھے اس کی اطلاع ملنی چاہئے مجھے فوری اطلاع دے ورنہ رات کو جو دستور ہے کہ سارا دن کی شکایتیں اکٹھی ہو کر پھر شام کو پہنچیں تو یہ ایک دوسرا شعبہ بھی امسال سے یہاں جاری ہونا چاہئے۔ایک اور مشکل ایسی ہے جس کے پیش نظر ہم ایک نیا نظام جاری کر رہے ہیں اور جماعت کو مطلع رہنا چاہئے یعنی میز بانوں کو بھی ، مہمانوں کو بھی کہ یہ نظام ہے جس میں بعض دفعہ ایک کمزوری بھی پیدا ہو جاتی ہے اور اُس کو اگر وہ خود حل کر سکتے ہوں تو خود حل کریں بجائے اس کے کہ گھبرا جائیں یا سمجھیں کہ یہاں سارا نظام ہی درہم برہم ہو ا ہوا ہے۔ہم نے جو روٹی کی مشین یہاں بنوائی تھی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی اچھا کام کر رہی ہے لیکن یہاں مشینوں کی قیمتیں زیادہ پڑتی ہیں اور اگر سارے مہمانوں کی ضرورت کے لئے مشینیں بنائی جائیں تو تین مشینیں چاہئیں لیکن وہ ایک ہی مشین ہم بنا سکے ہیں اور اتنا عرصہ لگا ہے اُس کی نوک پلک کو درست کرنے میں۔وہ خدا کے فضل سے بہت اچھے معیار کی روٹی پیدا کر رہی ہے۔یعنی شروع میں کچھ کمزوریاں تھیں رفتہ رفتہ ٹھیک ہوتی چلی گئیں لیکن اگر اُس کی رفتار کو بہت زیادہ تیز کیا جائے تو پھر وہی بات ہوگی یا کچی روٹی نکلے گی یا جلی ہوئی۔اس دفعہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہفتہ پہلے اکیس تاریخ سے وہ مشین کام شروع کر دے اور ایک بہت بڑا کولر ہے غالباً مائنس ٹو یا تھری ڈگری تک منفی دو تین درجہ حرارت تک وہ ٹھنڈا کرتا ہے۔اُس میں تھیلیوں میں ڈال کے اُن روٹیوں کو محفوظ کر لیا جائے۔preserve کرنے والی دوائیاں ہم نہیں ڈالنا پسند کرتے کیونکہ اُس سے آجکل جو تحقیقات ہو رہی ہیں نقصانات کے اندیشے ہیں۔بہر حال اُس روٹی کے متعلق تین دن تک تو وہ کہتے ہیں قطعی طور پر ٹھیک رہتی ہے اور میں نے جو اپنے گھر میں تجربہ کر کے دیکھا ہے میں نے دس دن کے بعد بھی کھائی ہے میرے لئے تو وہ بھی ٹھیک تھی لیکن مزاج مختلف ہوتے ہیں۔بعض لوگ پرواہ نہیں کرتے تھوڑی سی باسی ہو جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔خراب نہ ہو یعنی نقصان پہنچانے والی نہ ہو تو گزارہ کر لیتے ہیں۔بعض بہت ہی نازک مزاج ہوتے ہیں اور وہ