خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 377 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 377

خطبات طاہر جلد ۹ ایک آہ ہی دعا بن جاتی ہے۔377 خطبہ جمعہ ۲۹ جون ۱۹۹۰ء اگر ایک ماں باپ ایسے ہیں جو ہر وقت اپنی اولاد میں نیکی تلاش کرتے ہیں اور نیکی نظر نہ آئے تو ان کے دل سے آہ نکلتی ہے وہی آہ ان کی دعا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس پر محبت اور پیار کی نظر ڈالتا ہے اور وہ جو دنیا پر راضی ماں باپ ہیں وہ بعد میں اپنی اولا دکو جب بے راہ رو ہوتے دیکھتے ہیں، ان کی لڑکیاں غیروں کے ساتھ بھاگ رہی ہیں ، ان کے لڑکے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں تو پھر وہ روتے ہیں پیٹتے ہیں اور دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں یہ ساری بے حقیقت باتیں ہیں۔جس طرح دنیا کے مضمون میں سائنس کا معنی ہے حقیقت اور حقیقت کو تصورات تبدیل نہیں کر سکتے۔وہی خدا ہے جس نے روحانی دنیا پیدا کی ہے وہاں بھی ایک سائنس کا مضمون ملتا ہے اور سائنسی حقائق کے طور پر باتیں پائی جاتی ہیں۔محض جذباتی اور تصوراتی طور پر آپ اس میں کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ہاں ایک اور مضمون وہاں بالا خانوں کا ملتا ہے جس کا مطلب یہ ہے جب تم اپنا سب کچھ کر دو گے تو پھر خدا کے فضل کے نتیجے میں تم وہاں تحية پاؤ گے۔ایسے ارفع اور بلند مقامات تمہیں نصیب ہوں گے جہاں تمہاری کوششوں کا پھل تو ضرور ملے گا لیکن اس کے علاوہ خدا کی طرف سے تحائف بھی بہت ملیں گے۔ایسے تحائف جو محض اس کے فضل کے نتیجے میں عطا ہو نے والے ہیں۔پس ہم نے چونکہ سب دنیا میں اپنی اولاد کی تربیت کرنی ہے اور آئندہ بہت لمبے عرصے تک اپنی نسلوں کو خُلِدِین فیھا کے مطابق بنانا ہے۔یعنی خدا کا یہ وعدہ کہ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اس کے متعلق ہم نے کوشش کرنی ہے کہ ہماری نسلوں کے حق میں بھی یہ وعدہ پورا ہو اور وہ ان اعلیٰ اور بلند اور ارفع مقامات پر ہمیشہ رہنے والے بن جائیں۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ وہ زندگی اختیار کریں اور تربیت کے وہ رنگ ڈھنگ سیکھیں جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے کھول کھول کر مضمون بیان فرمائے ہیں اور کھول کھول کر ہمیں تربیت کے طریقے سکھا دیئے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں احسن توفیق عطا فرمائے۔اس مضمون کا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صرف ماں باپ اور اولاد سے تعلق نہیں ہے بلکہ یہی مضمون اپنی وسعتوں میں نظام جماعت سے تعلق رکھنے والے ہر عہد یدار پر بھی صادق آتا ہے ہر امیر پر صادق آتا ہے ہر مربی پر صادق آتا ہے اور وہاں یہ مضمون اور کئی لحاظ سے وسعت اختیار کر جاتا ہے اگر چہ اتنے وسیع مضمون کو سمیٹنا تھوڑے وقت میں ممکن تو نہیں ہوتا لیکن میں