خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد ۹ 174 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء دیکھیں کہ آپ نے کتنا خدا کی ذات میں سفر کیا ہے۔یا درکھیں وہی سفر سفر ہو گا جو رمضان کے بعد بھی جاری رہے گا۔وہ سفر جہاں آپ پھسل کر واپس آجائیں وہ سفر سفر نہیں ہے۔یہ ممکن ہے کہ کوششوں میں انسان پھسلتا رہے لیکن جب ایک مقام کو حاصل کر لیتا ہے تو پھر اس کے بعد پھسلنا نہیں ہونا چاہئے۔ہم نے کئی دفعہ بچپن میں ایسے Poles پر چڑھنے کی کوشش کی جس میں انسان پھسل جاتا ہے۔بعض درختوں پر انسان چڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور پھسل جاتا ہے۔کیڑیاں بھی دیواروں پر چڑھتی ہیں اور پھسل جاتی ہیں لیکن اگر انسان عزم جاری رکھے تو بار بار پھسلنے کے باوجود پھر ایک موقعہ ایسا نصیب ہوتا ہے جب انسان اس چوٹی کو پالیتا ہے جس کی طرف وہ حرکت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جب اس درخت پر چڑھ کر اس چوٹی پر بیٹھتا ہے تو پھر کوئی پھسلنا نہیں ہے۔پھر اپنی مرضی سے نیچے اترے تو اترے۔ایک اور ہی لطف اس وقت فتح کا محسوس ہورہا ہوتا ہے کہ ہاں اب میں مقام محفوظ پہ پہنچ گیا ہوں۔پس اس لقاء کو جو اس رمضان کے دوران حاصل ہو، اس پیمانے پہ جانچیں اور دیکھیں کہ آپ نے جو کچھ خدا کا پایا تھا ، رمضان گزرنے کے بعد بھی ہاتھ میں رہایا نہ رہا۔اگر نہیں رہا تو پھر میرا آپ کو یہی پیغام ہوسکتا ہے کہ کوشش جاری رکھیں اور نہیں تو بار بار گرنے والی کیٹریوں سے ہی سبق حاصل کریں۔پھسلیں بے شک پھسلیں مگر پھر اس نیت کے ساتھ دوبارہ سفر شروع کریں کہ میں نے ہمت نہیں تو ڑنی اور ضرور اپنے مقصد کو حاصل کر کے چھوڑنا ہے۔پھر انشاء اللہ آپ کے پھسلنے سے نقصان نہیں ہوگا لیکن اگر پھسلنے کا مطلب یہ ہے کہ اگلے رمضان تک مسلسل خدا سے دور ہی ہٹتے چلے جانا ہے تو پھر یہ لقاء نہیں ہے۔اس کا جو کچھ اور نام رکھ دیں لیکن اسے آپ لقاء نہیں کہہ سکتے۔پس اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو حقیقت میں لقاء کے مضمون کا عرفان عطا فرمائے۔اور اس مضمون کو سمجھنے کے بعد لقائے باری تعالیٰ نصیب کرے۔مذہبی قوموں میں سب سے بڑی دنیا کی طاقت لقاء سے حاصل ہوا کرتی ہے۔اتنا بڑا کام ہمارے سپرد ہے، اتنے بڑے انقلابات ہم نے برپا کرنے ہیں لقاء کے بغیر ناممکن ہے کہ ہم اس کو سرانجام دیں سکیں۔پس اس کی اہمیت کو سمجھیں۔جتنے زیادہ صاحب لقاء جماعت احمدیہ کو نصیب ہوں گے اتنے ہی جلدی بڑے بڑے عظیم الشان انقلاب دنیا میں برپا کرنے کی ہمیں توفیق عطا ہو گی۔اللہ کرے کہ جلد تر ہمیں یہ توفیق نصیب ہو۔امین۔