خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 738 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 738

خطبات طاہر جلد ۸ 738 خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۸۹ء اخبارات میں شائع کرتے ہیں کہ فلاں مرتد ہو گیا، فلاں مرتد ہو گیا، فلاں مرتد ہو گیا۔جب تحقیق کی جاتی ہے تو بہت سے ان میں احمدی ہوتے ہی نہیں۔جو ہوتے ہیں ان پر وہ حالات صادق آتے ہیں جو میں نے بیان کئے ہیں اور ان میں سے بعض پھر بہت جلدی بڑے بڑے دردناک خط لکھتے ہیں معافی کے لئے اور یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہم اب ہر تکلیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں لیکن جب سے ہم نے مجبور ہو کر احمدیت سے تو بہ کی ہے ہم ایک جہنم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر یہ آیت صادق آتی ہے مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِةٍ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ سوائے اس کے کوئی شخص مجبور کر دیا گیا ہو وَ قَلْبُهُ مُطْمَئِنَّ بِالْإِيْمَانِ اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، وہ لوگ پھر وہاں ٹھہر ہی نہیں سکتے۔پس جانے والوں کی خبریں تو دے رہے ہیں جو آرہے ہیں ان کی خبریں نہیں شائع کر رہے۔حالانکہ مسلسل ان لوگوں میں سے آبھی رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی حیرت انگیز خطوط ملتے ہیں کہ بیویاں اور بچے لکھتے ہیں کہ ہمارے خاوند نے یا باپ نے یہ حرکت کی ہے ہمارا اس سے یہ کوئی تعلق نہیں رہا۔ہم اس کو چھوڑ کر الگ آکے بیٹھ گئے ہیں ہمیں کوئی پرواہ نہیں جو کچھ ہم سے ہوتا ہے لیکن ہم اپنے خاوند کی طرح بز دل نہیں بن سکتے یا اپنے باپ کی طرح بزدل نہیں بن سکتے۔ابھی چند دن ہوئے ہیں چک سکندر سے ایک خط کسی طرح سمگل کر کے کسی نے بھجوایا بچوں نے۔اسی مضمون کا بڑا دردناک خط ہے۔بچے لکھتے ہیں کہ ہمارے متعلق بھی آپ کو اطلاع ملی ہوگی کہ ہم مرتد ہو گئے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہمارا باپ ہوا ہے اور ہم نہیں ہوئے۔ہم جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں گھر میں پڑھتے ہیں تو ہمیں سخت مارتا ہے اور تشدد کرتا ہے اور اس کے بعد ہم روتے پیٹتے کچھ دیر کے لئے چپ کر جاتے ہیں پھر ہم شروع کر دیتے ہیں اس لئے ہمارے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ ہم بھی اپنے مرتد باپ کے ساتھ شامل ہیں۔ہمیں کوئی پرواہ نہیں جب تک اس معاشرے کا دباؤ ہے ہم کھل کر باہر نہیں آسکتے مگر ہمارے دل مومن ہیں اور ہمارے اعمال بھی جماعت احمدیہ کے ساتھ ہی ہیں۔اس قسم کا یعنی الفاظ یہ نہیں مگر اس مضمون کے خط ان کے ملے اور پھر کھاریاں سے بھی اسی قسم کا ایک خط ملا اور بھی ایسے آنے شروع ہوئے ہیں۔پس وہاں جہاں دباؤ کے ذریعے مرتد کیا جا رہا ہے وہاں اللہ کے فضل کے ساتھ ایک احمدیت میں واپسی کی اور بڑی شرمندگی کے ساتھ