خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 728
خطبات طاہر جلد ۸ 728 خطبه جمعه ۱۰/ نومبر ۱۹۸۹ء فتنے پیدا ہوتے ہیں، ہچکولے آتے ہیں طرح طرح کی آزمائشیں پڑتی ہیں ان کی اور انبیاء کے آنے کے ساتھ یہ زلازل واقع ہوتے ہیں۔اس وجہ سے انبیاء آتے ہیں تا کہ خبیث کو طیب سے الگ کر دیں۔چنانچہ وہ لوگ جو مومنوں کی جماعت میں بھی بطور خبیث شامل ہو چکے ہوتے ہیں ان کے دو طرح کے اظہار ہوتے ہیں۔ایک وہ کہ وہ منافق بن جاتے ہیں جب تک رہتے ہیں منافقانہ باتیں کرتے ہیں اور علیحدگی اختیار کئے بغیر جماعت کے اندر رہتے ہوئے بھی ان کا نفاق وقتاً فوقتاً پھوٹتا رہتا ہے اور نفاق خود سب سے گندی قسم کا جھوٹ ہے۔نفاق اور ایمان کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں۔نفاق کا مطلب یہ ہے کہ دل کسی اور بات کی گواہی دے رہا ہے اور عقل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ بات ظاہر نہیں کرنی، کرنی ہے تو خاص شرارت اور خاص مکر کے تابع کرنی ہے ورنہ اپنے اعتقاد کے خلاف ایک سوسائٹی کے اندر اس سوسائٹی کا حصہ بن کر رہنا ہے۔تو یہ جھوٹ کی ایک نہایت مکروہ شکل ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسے لوگ یا وہ منافق ہو جاتے ہیں یا پھر وہ ارتداد اختیار کرتے ہیں ایسی حالت میں کہ ان کا گند بہت بڑھ چکا ہوتا ہے اور خبیث اور گندے لوگ ہیں جو سوسائٹی سے باہر پھینکے جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی تاریخ بھی جماعت کے سامنے کھلی پڑی ہے۔اکثر یہ وہ لوگ ہیں جن کے باہر نکلنے سے پہلے جماعت نے ان کو کھوٹے پیسے کے طور پر رد کر دیا تھا۔ان کے خلاف نظام جماعت حرکت میں آچکا تھا۔ان کے خلاف قضا حرکت میں آچکی تھی۔ان کی بددیانتیاں ثابت تھیں لین دین میں یا اور ایسی باتیں جو مکروہات سے تعلق رکھتی ہیں یا شنیعہ حرکتیں جو گنا ہوں سے تعلق رکھتی ہیں ان کے ظاہر ہونے کے نتیجے میں جب نظام جماعت نے ان پر ہاتھ ڈالا تو پھر وہ باہر نکلے اور ارتداد کا اعلان کیا۔تو ایک طبقہ ان کا جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے وہ گندے اور کھوٹے لوگوں کا ہے۔اس کے برعکس قرآن کریم سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ایمان لانے والے لالچ کے نتیجے میں نہیں بلکہ اس کے برعکس حالات میں ایمان لاتے ہیں۔ایک طرف مرتد ہونے والوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ تم ہمارے اندر شامل ہو جاؤ۔ہم تمہیں اعلیٰ نوکریاں دلوائیں گے۔تم پر خرچ کریں گے۔تمہیں رزق عطا کریں گے یا کئی قسم کی نوکریاں یا جائدادیں یا تنخواہیں لگا دیں گے۔غرضیکہ لالچ سے اس قسم کے ارتداد کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اس کے برعکس ایمان کی یہ شان ہے کہ وہ لوگ جو ایمان اختیار کرتے ہیں ان کو مالی