خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 587 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 587

خطبات طاہر جلد ۸ 587 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء بنگ کا سود بڑھانا شروع کر دیا ہے اور جب بنک کا سود بڑھنا شروع ہوا Real Estate یعنی جو عمارات کی خرید و فروخت کے کاروبار ہیں ان پر دباؤ آنا شروع ہو گیا پھر یہی نہیں بلکہ پاؤنڈ کو سہارا دے کر مہنگارکھا گیا ہے۔اس لئے باہر کی منڈیاں ہاتھ سے نکلنی شروع ہو گئیں جب منڈیاں نکلیں اور یہاں کاروبار مندا ہوا تو بعض کارخانے بند ہونے لگے۔چنانچہ ابھی حال ہی میں ایک بہت بڑی انڈسٹری پر اسی قسم کا زوال انہوں نے ہزار ہا اپنے ملازم فارغ کر دیئے ہیں اور جب ہزار ہا ملازم فارغ ہوں گے اس کے جو بد اثرات معاشرے پر ظاہر ہوئے ہیں ان کو بھی آخر لذت یا بی کی عادت پڑی ہوئی ہے۔انہوں نے بھی اپنی شراب کی عادتیں پوری کرنی ہیں، انہوں نے بھی اپنی ناچ گانے کی عادتیں پوری کرنی ہیں، انہوں نے بھی بظاہر بہت ہی حسین لذت یابی والے معاشرے کا تعاقب کرنا ہے وہ کیسے کریں گے ، جرائم بڑھیں گے اور بہت سے بداثرات ظاہر ہوں گے۔اقتصادیات پر مزید بداثر پڑیں گے۔یہ وہ ایسے حالات ہیں جن کا بہت ہی مختصر نقشہ میں نے آپ کے سامنے کھینچا ہے لیکن اگر آپ مزید غور کریں تو آپ یہ معلوم کر کے خوفزدہ ہو جائیں گے کہ ساری مغربی ترقی جو ہے یہ ہلاکت کی طرف منہ موڑ چکی ہے اور یہ اقتصادی بحران جب مزید آگے بڑھتے ہیں تو پھر یہ عالمی جنگوں پر منتج ہوا کرتے ہیں۔اُس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔کوئی دنیا میں بڑی جنگ ایسی لڑی نہیں گئی جس سے پہلے اس قسم کے اقتصادی بحران ظاہر نہیں ہوئے اور یہ اقتصادی بحران اب اُن کے اختیار میں نہیں ہیں۔اگر ایک مسلمان قوم جو اسلامی معاشرے پر قائم ہو، اسلامی تمدن اختیار کئے ہوئے ہو تو اُن کے پاس زائد پیسہ ہوگا کیونکہ ان کی ضرورتوں سے زیادہ ہے۔اُس میں اگر کمی بھی آئے تو اُس کے رہن سہن پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ایک احمدی ہے جس کو کوئی گندی عادت نہیں ہے، نہ سگریٹ پیتا ہے، نہ شراب پیتا ہے، نہ وہ ناچتا گاتا ہے ، وہ تو سادہ زندگی بسر کر سکتا ہے خواہ وہ آرام کی زندگی ہی کیوں نہ ہو۔اُس پر میر اخرچ نہیں ہوا کرتا لیکن جو لذت یابی کی اور عیاشی کی زندگی ہے یہ بہت زیادہ دولت کھینچتی ہے اس لئے ایسی قومیں جن کا تمدن صاف اور پاکیزہ ہو وہ تو خطر ناک سے خطرناک اقتصادی بحران کا بھی بڑے آرام سے مقابلہ کر سکتی ہے کیونکہ ان کے اندر گرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہیں پس یہ غلام ہیں دراصل جس کو یہ کہتے ہیں آزادی ہے ہماری تم ہماری آزادی میں دخل