خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 489

خطبات طاہر جلد ۸ 489 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء سے ایسا دفاع کیا کہ گاؤں والوں کو اپنی کثرت کے باوجود یہ توفیق نہ ملی کے آگے بڑھ کر احمدی گھروں کو آگ لگا سکیں۔چنانچہ اس وقت تک جس وقت پولیس وہاں پہنچی ہے اور یہ منصوبے کا دوسرا حصہ تھا کہ پولیس با قاعدہ پہنچ کر اپنی نگرانی میں جماعت احمدیہ کو نقصان پہنچانے کی کارروائی جاری رکھوائے اور جماعت کو نہتا کر کے پھر ظالم دشمنوں کے سپردان کو کر دے یہ تھی دراصل سکیم۔چنانچہ جب تک پولیس نہیں پہنچی اس وقت لڑائی کے نتیجے میں ایک غیر احمدی ہلاک ہو چکا تھا اور مقابل پر چند احمدی عورتیں زخمی ہوئی تھیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مردوں کے مقابل پر جماعت احمدیہ کی عورتیں دفاع کر رہی تھیں اور بڑی بہادری کے ساتھ وہ ڈٹی ہوئی تھیں اور ہر گز کسی ظالم کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ آگے بڑھ کر احمدیوں کے گھروں میں داخل ہو سکے۔چنانچہ پہلے سے بنائے ہوئے منصوبے کے مطابق پولیس فورس وہاں پہنچی اور اس کے ساتھ ایس۔پی یعنی سپر نٹنڈنٹ پولیس بھی ساتھ آیا اور ڈی۔آئی۔جی بھی وہاں پہنچا اور اسٹنٹ کمشنر بھی پہنچا اور وہاں پہنچ کر انہوں نے پہلی کاروائی تو یہ کی کہ بعض احمد یوں کو ان کے گھروں سے ا تارا اور نہتا کیا اور اس وقت ان پر دشمن نے فائرنگ کر کے ان کو موقع پر شہید کیا۔چنانچہ تین شہادتیں اس طرح ہوئیں کہ جو لڑائی کے دوران نہیں بلکہ پولیس کا رروائی کے نتیجے میں پولیس کی نگرانی میں ان کو نہتا کرنے کے بعد دشمن کو موقع دیا گیا کہ ان پر فائرنگ کر کے ان کو ہلاک کرے۔ان میں سے بھی جو فہرست ہے ایک ہیں نذیر احمد صاحب ساقی۔ایک ہیں مکرم محمد رفیق صاحب ولد مولوی محمد خان صاحب اور ان میں سے بھی ایک بچی ہے یعنی عزیزہ نبیلہ بنت مکرم مشتاق احمد صاحب۔تو یہ تین شہادتیں جو ہوئی ہیں یہ نہتا کرنے کے بعد پولیس نے یقتل کی کارروائی کروائی ہے۔جب یہ ہو چکا اس کے بعد پولیس نے ہر گھر پہنچ کر جماعت احمدیہ کو نہتا کیا اور پھر عام ہلہ بولنے کی دوسروں کو دعوت دی۔چنانچہ اب تک جو اطلاع ملی ہے ایک سو سے زائد احمدی گھر جلائے گئے اور جو مویشی احمدیوں کے تھے ان کو بھی ہلاک کیا گیا اور یہ عجیب بات ہے کہ عید کی قربانی کا یہ بہیمانہ تصور غیر احمدیوں نے اپنے اسلام کا دنیا کے سامنے پیش کیا کہ معصوم لوگوں کی جانیں عید والے دن لی جائیں اور ان کے گھروں کو آگ لگا کر انہیں زندہ جلانے کی کوشش کی جائے اور ان کے جانور ہلاک کئے جائیں تا کہ ان کی