خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 250

خطبات طاہر جلد ۸ 250 خطبه جمعه ۲۱ را پریل ۱۹۸۹ء نے اچانک اپنا رویہ تبدیل کیا اور خود ہم تک پہنچ کر وہ پیغام لیا جوصد سالہ جو بلی کا میں نے اپنی آواز میں بھروایا تھا اور جماعت احمدیہ کے متعلق دوسری معلومات لے کر انہیں کثرت کے ساتھ نشر کرنا شروع کیا اور جہاں ٹیلی ویژن تھی وہاں خلاف توقع ٹیلی ویژن والوں نے کثرت کے ساتھ جماعت کے پروگرام نشر کئے اور پھر ایک ملک کے حصے سے دوسرے ملک کے حصے کے ٹیلی ویژنوں نے ان کو پکڑا اور پھر اس کو آگے پہنچایا اور تمام ملک کے کونے کونے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں ٹیلی ویژنز موجود تھے وہاں ٹیلی ویژنز کے ذریعے جماعت کا پیغام پہنچا۔ہندوستان کے متعلق خود قادیان کے پہلے اندازے یہ تھے کہ اتنا بڑا ملک ہے اور تقسیم کے بعد کیونکہ تناسب کے لحاظ سے جماعت کی تعداد بہت تھوڑی رہ گئی ہے اس لئے ہمارا اس ملک سے کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے اور ہم دہلی سے درخواست تو کر رہے ہیں اور اسی طرح جالندھر والوں سے درخواست کر رہے ہیں لیکن ہمیں یہ توقع نہیں کہ ہم سے بھر پور تعاون ہو گا اس لئے ایک آدھ خبر میں بھی اگر ذکر آ جائے تو ہم ممنون ہوں گے۔یہ تمہید باندھ کر انہوں نے یہ درخواست کی کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم لکھوکھہا روپیہ خرچ کر کے بعض ٹیلی ویژنز اور بعض ریڈیو اسٹیشنز کو اس بات پر آمادہ کریں کہ اشتہار کے طور پر ہمارا ذکر کر دیں۔میں نے ان سے کہا کہ ایک پیسہ بھی اشتہار پر خرچ نہیں کرنا یا تو جماعت کا رسوخ ہو اور اس رسوخ کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ بعض ممالک کے متعلقہ شعبے تعاون کریں یا پھر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے۔اشتہار بازی کے پراپیگنڈے کا میں قائل نہیں ہوں۔چنانچہ ایک پیسے کی بھی میں نے ان کو اشتہار بازی کی اجازت نہیں دی لیکن جو واقعہ گزرا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ہندوستان کے کونے کونے سے یہی خبریں مل رہی ہیں کہ ٹیلی ویژن والے خود پہنچے اور اتنی تشہیر کی اور بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پوری تصویر دکھائی گئی اور ایسے اچھے انداز میں ذکر ہوا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہماری جماعت جب یہ نظارے دیکھتی تھی تو زار زار خوشی سے روتی تھی کہ کہاں ہم اور کہاں ہماری کوششیں اور کہاں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کو ٹیلی ویژن پر دیکھتے تھے تو دل بلیوں اچھلتے تھے اور بے اختیار ہو جاتے تھے بچے ، بڑے، مرد، عورتیں سارے خوشی سے زور زور سے روتے تھے۔کہتے ہیں ایسا نظارہ ہم نے دیکھا ہے کہ ساری زندگی میں وہم و گمان میں