خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد ۸ 221 خطبہ جمعہ ۷ را پریل ۱۹۸۹ء ضروری نہیں سمجھا گیا بلکہ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (المزمل:(۲۱) تھوڑ اسا جتنا بھی میسر آئے تم قرآن پڑھ لیا کرو کافی ہے تمہارے لئے۔تو کافی ہونے کے بعد کی جو چیز ہے جس کے بغیر بھی آپ آسانی سے زندہ رہ سکتے ہیں وہ آپ محض خدا کے لئے کرتے ہیں۔وہ لوگ جن کو بعض دفعہ سارے سال میں بھی قرآن کریم ختم کرنے کی توفیق نہیں ملتی۔رمضان کے ایک مہینے میں بار بار اس کا دور کرتے ہیں۔پھر ایسے جائز حقوق ہیں جن کو آپ چھوڑتے ہیں محض خدا کی خاطر اور ان کو چھوڑ نا بنی نوع انسان کے لئے ضروری نہیں۔مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جهر بالسوء کو پسند نہیں فرماتا۔اونچی آواز سے سختی کلامی کو پسند نہیں کرتا۔سوائے اس کے کہ کسی پر زیادتی کی جائے۔اگر وہ مظلوم ہے اور اس پر کسی نے زیادتی کی ہے تو اس کا یہ حق ہے کہ وہ اسی طرح اونچی آواز میں اس سے سختی سے کلام کرے اور اپنا بدلہ لے لے اگر وہ چاہتا ہے۔عام حالات میں اگر یہ مضر بات ہوتی تو خدا اس کو روک دیتا۔یعنی بنی نوع انسان کی حفاظت کے لئے ، ان کے حقوق کی حفاظت کے لئے بعض دفعہ یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ کسی سخت کلام انسان کو کچھ نمونہ چکھانے کے لئے اسی قسم کی سختی کا معاملہ اس سے کیا جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کلام میں جہاں کہیں سختی کی ہے وہاں اس حکمت کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ بنی نوع انسان کے معاملات کی اصلاح کی خاطر اور لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لئے کہ دوسروں کے بھی احساسات ہیں بعض دفعہ کچھ سخت کلامی سے بھی پیش آنا پڑتا ہے ان لوگوں کے لئے جو بد کلامی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔تو عام حالات میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔رمضان کے دنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں کہ تم یہ حق بھی چھوڑ دو اور جب کوئی تم سے سخت کلامی کرے تو اس سے زیادہ کچھ نہ کہا کرو کہ میں تو روزے دار ہوں ، خدا کے لئے میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔پس خدا کے لئے رمضان کا ہونا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ گیارہ مہینوں میں زندگی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے جتنے احکامات تھے وہ اپنی ذات میں مکمل ہیں ان میں کوئی کمی نہیں ہے۔اگر اس مہینے میں بھی آپ ان پر عمل کرتے ہوئے وقت گزار لیتے تو بنی نوع انسان کو کوئی نقصان نہیں تھا۔یہاں جو زائد آپ اپنے اوپر ذمہ داریاں ڈال رہے ہیں وہ اپنی خاطر نہیں کر رہے کیونکہ اس کے بغیر بھی آپ کی زندگی اچھی گزرتی تھی۔محض خدا کی خاطر زائد تحفے کے طور پر محبت کے رنگ میں۔پس خدا سے محبت کا مضمون ہے جو رمضان ہمیں سکھاتا ہے۔تمام