خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 212
خطبات طاہر جلد ۸ 212 خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۸۹ء وہ کتابیں اور رسائل جن تک پہنچیں گے وہ ان میں کس حد تک دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں؟ پڑھتے بھی ہیں یا نہیں یا اٹھا کر رڈی میں پھینک دیتے ہیں۔اس لئے ڈاک کے ذریعے جہاں ایک فائدہ ہے وہاں یہ بہت بھاری نقصان بھی ہے۔کچھ سمجھ نہیں آئے گی آپ کو اس لٹریچر کا کیا بنالیکن اگر محنت کریں جماعتیں اور تقسیم کار کریں۔نوجوانوں کو بھی شامل کریں، بوڑھوں کو بھی شامل کریں ، بچوں کو بھی شامل کریں اور ترتیب کے ساتھ ایسا پروگرام بنا ئیں کہ علاقہ علاقہ اس لٹریچر کو ذاتی طور پر پیش کرنے کا پروگرام بنایا جائے۔اس سلسلے میں کچھ دقتیں ہیں مثلاً تعارف کا نہ ہونا۔بعض جگہ جماعتیں بہت چھوٹی ہیں علاقے بہت وسیع ہیں کس طرح ان تک پہنچا جائے ؟ تو اس مشکل کا حل سوائے اس کے کچھ نہیں کہ جتنی بڑے مشکل ہو اتنا ہی زیادہ حکمت اور تفصیل کے ساتھ منصوبہ بنایا جائے۔منصوبہ بنانے میں جو آپ وقت خرچ کرتے ہیں اتنا ہی تعمیل سے خرچ بچاتے ہیں۔یہ بنیادی اصول ہے کہ جتنا محنت اور تفصیل کے ساتھ آپ منصوبہ بنائیں گے ، جتنا اس پر معنی خیز وقت خرچ کریں گے اتنا ہی تعمیل کے وقت آپ کا وقت بچے گا۔مثلاً وہ لوگ جو اچھے انجینئر ہیں وہ عمارت بنانے سے پہلے اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں اور اسے سیاہ وسفید میں عداد وشمار میں اُتار کر ایک ایسا وسیع منصوبہ بنا لیتے ہیں کہ کام کرنے والوں کو کسی مرحلے پر بھی دشواری پیش نہیں آتی یا یہ سوال ان کے سامنے نہیں اُٹھتے کہ اس اینٹ کو یوں رکھنا ہے کہ یوں رکھنا ہے، کس رنگ کی اینٹ استعمال کرنی ہے، کس قسم کا سیمنٹ لگانا ہے اور کہاں پانی کی نالیاں رکھنی ہیں، کہاں بجلی کے لئے سوراخ رکھنے ہیں، کس قسم کی تاریں استعمال کرنی ہیں وغیرہ وغیرہ۔تمام تفصیلات ایک منصوبے کی شکل میں وہ طے کر لی جاتی ہیں اور انجینئر ز کو اس پر بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔بعض دفعہ کئی کئی سال تک بعض عمارتوں کے منصوبے بنتے ہیں اور وہ عمارتیں چھ مہینے کے اندر اندر کھڑی ہو جاتی ہیں اور نوک پلک درست ہوتی ہے کوئی خامی نہیں نظر آتی ، ہر ضرورت کا خیال رکھا جاتا ہے۔تو جہاں کام میں وقتیں ہوں وہاں منصوبہ بندی ضروری ہے اور یہ منصوبہ جس کا میں ذکر کر رہا ہوں یہ ایسا نہیں ہے جو مرکز سے بنا کر مختلف جماعتوں کو بھجوایا جائے کیونکہ یہ منصوبہ ایسا ہے جس کا ہر جماعت میں تیار ہونا ضروری ہے۔آپ قریب سے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں، آپ قریب سے مسائل پر نگاہ ڈال رہے ہیں۔آپ کو اپنی کمزوریاں اس سے زیادہ معلوم ہیں جتنا مرکز کے علم میں ہیں۔اسی طرح آپ کو اپنی طاقتیں بھی زیادہ معلوم ہیں جتنا مرکز