خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 694
خطبات طاہر جلدے 694 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء اور سچائی کی علامت ہے۔اس لئے ایسے ذکر سے میں نہیں رک سکتا جس کے نتیجے میں اصلاح مقصود ہے اور جس کے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔اس لئے مجبوراً مجھے کھل کر یہ باتیں آپ کے سامنے رکھنا ہیں۔مال کے متعلق میں آپ کو بتاتا ہوں میں نے بارہا آپ سے کہا ہے کہ ایسے لوگ جو آپ کو ایسی لالچ دیتے ہیں جو عام دنیا وی دستور کے مطابق معقول بات نہیں یعنی آپ سے یہ کہتے ہیں کہ یہ روپیہ بڑی تیزی سے بڑھ جائے گا اور بہت جلدی تم امیر بن جاؤ گے اس لئے یہ روپیہ ہمیں دو۔آپ یقین جانیں کے وہ بددیانت لوگ ہیں اور اس میں ایسے لوگوں کی ہمیشہ شرط یہ ہوتی ہے کہ ہمارے سپر د کرو اور ایسی لالچ دیتے ہیں کہ جس میں شروع میں بظاہر آپ کے سپر دروپیہ رہتا ہے لیکن کچھ دیر کے بعد رفتہ رفتہ اعتماد قائم ہو کر وہ روپے کا کنٹرول انتقال کر جاتا ہے دوسری طرف اور انتقال ان معنوں میں بھی کر جاتا ہے کہ آپ کی طرف سے روپیہ مرجاتا ہے۔تو یہ لوگ ایسے ہیں جن کے خلاف جماعت کو متنبہ رہنا چاہئے اور وہاں بھی نیتوں کا فتور ہے جوان کو نقصان پہنچاتا ہے۔آپ ایسے روپے کی لالچ میں مغلوب ہو جاتے ہیں جس کے متعلق آپ کا نفس اندرونی طور پر گواہی دیتا ہے کہ یہ درست بات نہیں ہے ایسا ہونا نہیں چاہئے۔چنانچہ اکثر دھو کے دینے والے اسی قسم کے سبز باغ دکھا کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور دھوکا دینے والے جس کو دھوکا دیتے ہیں وہ جب تک اپنے نفس کو دھوکا نہ دے وہ دھو کے کا شکار نہیں ہوسکتا۔یہ ایک بار یک نفسیاتی نقطہ ہے جس کو آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر آپ کا نفس خود آپ کو دھوکا دینے کا اہل نہیں ہے اور آپ اسے مغلوب کر چکے ہیں اور اپنے نفس کے دھوکے میں خود نہیں آتے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پھر دنیا کا کوئی دھو کے باز آپ کو دھوکا نہیں دے سکتا۔نقصان بعض دفعہ ایسے مومن بھی اٹھا لیتے ہیں لیکن اس کی اور وجوہات ہیں اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا ذکر نہیں مگر ہمیشہ وہی لوگ دھوکا کھاتے ہیں جو خود اپنے نفس کو دھوکا دینے کے عادی ہوتے ہیں۔اس لئے اموال کے معاملے میں اپنے نفسوں کو صاف کریں اور اپنی نیتوں کو صاف کریں اور کسی لالچ کا شکار نہ ہوں۔اگر آپ کسی لالچ کا شکار نہیں ہوں گے تو دوسرا قدم یہ ہوگا کہ آپ آئندہ دوسروں کو بھی دھوکا نہیں دیں گے۔اس لئے جماعت کی اصلاح کے لئے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ دوسروں کو دھوکا نہ دو۔بات یہاں سے شروع ہونی چاہئے کہ اپنے آپ کو دھوکا نہ دو۔اسی لئے میں کہہ رہا ہوں کہ نیتوں کی صفائی بہت