خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 579
خطبات طاہر جلدے 579 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء پاکستان ہماری حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ہمیں آپ سے آپ کے ارادوں پر تو کوئی شک نہیں مگر حالات بڑے خطر ناک ہوں گے کہ چھوٹی سی ایک ریاست ایک بڑی طاقت کے درمیان گھری ہوئی اپنی آزادی کا اعلان کر دے اور پاکستان دور بیٹھے اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہو جائے۔تو قائداعظم نے جواب میں کہا کہ ہم تمہاری مدد کو آئیں گے اگر ایسا ہوا، ہماری Comitment ہے۔اُس پر بہادر یار جنگ نے غالب کا یہ شعر پڑھا کہ ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک (دیوان غالب صفحہ: ۱۳۶) ہم یہ تو نہیں کہتے کہ تم تغافل کرو گے تم تو ایک با اصول راہنما ہو ہرگز اپنے وعدے سے پیچھے نہیں ہٹو گے لیکن دشمن اتنا قریب اور اتنا طاقتور ہے کہ تمہیں خبر ہونے سے پہلے پہلے ہمیں ملیا میٹ ہو جائیں گے چنانچہ جب وقت آیا تو بالکل یہی بات ہوئی۔اس لیے روس کے ساتھ ہمارا جو قرب ہے جغرافیائی اُس کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے تو اس ملک کو بھی دشمن ہم نہیں بنا سکتے۔امریکہ کو صاف بتانا پڑے گا کہ تمہاری خاطر ہم کوئی ایسی پالیسی اختیار نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں ہمارا یہ بڑا طاقتور ہمسایہ ہمارا دشمن بن جائے۔اپنی سوچ میں پختگی پیدا کریں، بلوغت پیدا کریں اور اس بات سے بے نیاز ہو جائیں کہ آپ اس دفعہ طاقت میں آتے ہیں کہ نہیں۔اگر تمام سیاسی لیڈرایم آرڈی کے نیچے ہیں کسی اور جھنڈے کے نیچے اکٹھے ہو کر پختہ سوچ کے ساتھ ان امور کو فوج کے سامنے رکھیں ٹھنڈے دل کے ساتھ مذاکرات کی شکل میں امریکہ کے سامنے رکھیں، روس کے سامنے رکھیں۔تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک عظیم الشان صبح پاکستان کے لیے طلوع ہوگی۔پاکستان کے اندر وہ بنیادی طور پر قوت موجود ہے یعنی انسانی قوت وہ موجود ہے جس میں لامتناہی ترقیات کے عناصر موجود ہیں۔اس لیے ہمیں دعا بھی کرنی چاہئے۔یہ جو مباہلے کے نتیجے میں ایک خدا تعالیٰ کی طرف سے معجزہ رونما ہوا ہے۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اس قوم کے لیے روحانی برکتوں کا ہی موجب نہ بنے بلکہ دنیاوی برکتوں کا بھی موجب بن جائے کیونکہ دشمنیاں تو مقصد نہیں تھیں۔کسی کی ہلاکت کے سے خوش ہونے والے لوگ ہی نہیں۔اس مباہلے کے نتیجے میں جو اعجازی نشان ہے ہمارے لیے مزید خوشیاں لے کے آئے گا مزید روشنیاں لے کے آئے گا اور اس کے نتیجے میں قوم روحانی لحاظ سے بھی فائدہ اُٹھائے اور دنیاوی لحاظ سے بھی فائدہ اٹھائے۔اللہ تعالیٰ ان کو تو فیق عطا فرمائے ( آمین )