خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 555
خطبات طاہر جلدے 555 خطبه جمعه ۱۲ راگست ۱۹۸۸ء پس یہ حالات دیکھنے کے بعد دل خوفزدہ ہوتا تھا اور انسان طبعا یہ نتائج نکالتا تھا کہ ممکن ہے یعنی اس بات کا احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کے مجرمین اور ان کا ساتھ دینے والوں کو سخت سزا دے گا لیکن رات کے رویا نے میرا دل ہلا دیا ہے کیونکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سزا ایک قسم کا مقدر بن گئی ہے اور لا زما ان میں سے ایک طبقہ میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ سب نہیں ان میں سے ایک طبقہ عبرت کا نشان بنے گا لیکن دوسرا مضمون ان آیات میں جو بیان فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ نشان کے باوجو دضروری نہیں کہ یہ لوگ ایمان لے آئیں۔میں نے گزشتہ خطبے میں یہ دعا کی تحریک کی تھی کہ دعا کریں کہ ایسا نشان ظاہر ہو۔جس کے نتیجے میں ساری قوم ایمان لے آئے لیکن ان آیات میں مجھے میری غلطی کی طرف متوجہ فرمایا انسانی سوچ بہر حال ناقص سوچ ہے۔کلام الہی میں اس مضمون پر روشنی ڈالی اور یہ بتایا نشانات کے دیکھ کر تو میں ایمان نہیں لایا کرتی۔چنانچہ فرمایا لَا يُؤْمِنُونَ نہیں ایمان لائیں گے اور پہلوں کی سنت پر چلیں گے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں۔ان لوگوں نے جو سلوک اختیار کیا وہی یہ اختیار کریں گے ، اُن لوگوں کے ساتھ خدا نے جو سلوک اختیار کیا وہی خدا تعالیٰ اختیار کرے گا۔وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِن السَّمَاء اگر ہم آسمان پر ان کے لیے دروازے کھول دیں۔یا ایک بہت عظیم الشان دروازہ کھول دیں (بابا واحد کا صیغہ ہے) اور اُس دروازہ پر یہ چڑھ کر آسمانی باتوں پر اطلاع بھی پاسکیں۔اس سے بڑا اور کیا نشان ہو سکتا ہے فرمایا: اس وقت یہ دیکھنے کے باوجود یہ کہیں گے لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا ہماری آنکھیں تو مد ہوش ہو چکی ہیں۔ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ درست نہیں، آنکھوں پر جادو کر دیا گیا ہے بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ اور دیکھو ہم پر اور ساری قوم پر جادو کر دیا گیا ہے اب یہ تعجب کی بات ہے صرف تعجب کی بات نہیں بلکہ ایک تنبیہ کی بات ہے کہ بعینہ یہ بات بہت سے علماء نے اسلم قریشی کی بازیابی کے اوپر بیان کی ہے انہیں الفاظ میں کہ احمدیوں نے پولیس کی آنکھوں پر جادو کیا احمدیوں نے اسلم قریشی کو مسمرائز کروایا پولیس سے اور یہ سب کچھ جادو کا قصہ ہے حقیقت نہیں ہے۔سنۃ الاولین کس طرح دہرائی جاتی ہے حیرت ہے خدا تعالیٰ کے کلام کی عظمت کو دیکھیں اور اس کی سچائی کا مشاہدہ کریں دل عش عش کرنے لگتا ہے۔قدیم زمانیں کی باتیں ہیں جن کے متعلق آدمی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس زمانے میں دہرائی جائیں گی لیکن خدا کا کلام کہ رہا تھا کہ ضرور ہرائی جائیں گی اور دہرائی گئیں آپ کی آنکھوں کے سامنے دہرائی گئی ہیں۔پس کوئی نشان بھی یہ طاقت نہیں رکھتا کہ کسی قوم کو ایمان لانے پر