خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 32
خطبات طاہر جلدے 32 32 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۸۸ء کہ خدا کی طرف پہنچنے کے لئے وسیلہ ڈھونڈ و، وسیلہ کی تلاش کرو، وسیلہ کی خواہش کرو“ تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دوستے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں ھذا بِمَا صَلَّيْتَ عَلَى مُحْمَدٌ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ: ۱۳۱۔ح) کہ یہ وہ انعام ہے جو محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔اندرونی راہ سے اور بیرونی راہ سے آنے کا مطلب یہ ہے کہ سیرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باطن میں بھی اختیار کرنا ضروری ہے ظاہر میں بھی اختیار کرنا ضروری ہے اور درود صرف زبان سے نہ پڑھے جائیں بلکہ اندرونی محبت اور عشق کے نتیجہ میں سینے کی گہرائیوں سے نکلنے والے درود ہوں۔جب یہ مضمون مکمل ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسیلہ بن جاتے مضمون ہیں اور ان معنوں میں آپ کو وسیلہ شمار کرنا ہرگز نعوذ باللہ شرک نہیں بلکہ توحید کامل کا ایک من ہے۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لئے محبوب کامل ہیں انسانوں میں سے کہ وہ کامل خدا محبوب از لی وابدی کی طرف لے جانے والے ہیں اور توحید کامل عطا کرنے والے ہیں۔آپ کی راہ سے گزرے بغیر یعنی آپ کی سیرت اختیار کئے بغیر اللہ تعالیٰ نصیب نہیں ہوسکتا۔اب یہ جو دوسرا پہلو ہے اس کے متعلق انشاء اللہ میں بعد میں روشنی ڈالوں گا۔وسیلہ کا تر جمہ جواب تک ہمارے سامنے ظاہر ہوا وہ ہے: خدا کو دکھانے والی ، خدا کو ملانے والی مختلف راہیں، مختلف ذریعے۔خدا کو دکھانے والا ، خدا تک پہنچانے والا ایک وجود جو خود مقرب ہے اور خدا کو بہت پیارا ہے اور تیسرا معنی یہ ہے خدا تک پہنچانے والا وہ وجود جو اس سے پہلے تمام مقربین کے لئے بھی ایک وسیلہ تھا اور وہ خدا تک پہنچنے کے لئے اس کی راہیں تلاش کرتے تھے اور اس سے محبت اور پیار کا اظہار کرتے تھے۔پس ان معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وسیلہ بن جاتے ہیں لیکن یہ جو وسیلہ کا تصور ہے یہ کوئی ایسا تصور نہیں ہے جیسے صوفی یا پیر آپ کو بعض وظیفہ سکھا دیتے ہیں کہ یہ وظیفے کر لو تو تم فلاں اعلیٰ مقام تک پہنچ جاؤ گے۔اس لفظ کی تفصیل پر آپ غور کریں تو