خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 340

خطبات طاہر جلدے 340 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء دنیا کا کوئی ملا حائل نہیں ہو سکتا۔اس لیے وہ اگر آپ نہ کریں تو پھر آپ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں فلاں مولوی نے روک دیا اس لیے ہم نے ان کے لیے دعائیں نہیں کیں اور آپ نے جو کوشش کرنی بھی تھی جس سے آپ کو باز رکھا گیا۔تکلیف کے مقابل پر وہ کچھ بھی نہیں تھی ، اس کا بہت ہی معمولی اثر ظاہر ہونا تھا لیکن دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے طالب ہوں ، اُس سے رحم اور بخشش اور عقل کے طالب ہوں تو پھر خدا کی تقدیر تو ہر جگہ آپ کی نیک تمناؤں کو رحمت کی بارشیں بنا کر برسا سکتی ہے اور آپ کا فیض آسمان کی راہ سے اُن تک پہنچ سکتا ہے۔یعنی آپ کی محبت کا فیض ، آپ کی ہمدردی کا ، آپ کی خیر خواہی کا فیض دعاؤں کی شکل میں اُن پر نازل ہوسکتا ہے۔اس لیے تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کو دعاؤں کے ذریعہ اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کرنی چاہئے اور اسلام کی مدد کرنی چاہئے کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ جو مناظر ہیں یہ شدید اسلام کی بدنامی کا موجب بن رہے ہیں۔اسلام کو ایسی مکر وہ صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے اور اُس کے مقابل پر ہمارے پاس جواب کوئی نہیں بنتا واقعہ یہ کچھ ہورہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔ہمارے تبلیغ کے کام میں روکیں پیدا ہوتی ہیں اور اسلام کا حسین چہرہ بہت ہی مکر وہ صورت میں دنیا کو دکھایا جاتا ہے اور ہم اس میں کچھ کر نہیں سکتے اس لیے اس معاملے میں دعا کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ایک اور نصیحت جو اس ضمن میں پاکستان کے احمدیوں کو ہے سب احمدیوں کے لیے تو اسوقت ممکن نہیں ہو گا لیکن خصوصیت سے کراچی اور راولپنڈی اور اسلام آباد کے احمدیوں کو یہ نصیحت ہے کہ اپنی عید میں ان مظلوموں کو شامل کرنے کی کوشش کریں۔خاص طور پر یتامی اور بیوگان جن کا کوئی والی وارث نہیں رہا۔اُن کی یہ بڑی دُکھوں کی عید آنے والی ہے۔ابھی یہ غم تازہ ہیں اسی عشرے میں اُن کے عزیز مارے گئے ہیں، ظالمانہ طور پر قتل ہوئے اور بڑے بھیا نک طریق پر مارے گئے۔اس لیے اُن کے زخم تازہ ہیں اور اس وقت اُن کو ہمدردی کی ضرورت ہے۔میں نہیں جانتا کہ اُن تک کوئی فیض پہنچانے والا موجود بھی ہے کہ نہیں۔اپنی نفسانفسی لوگوں کو پڑی ہوئی ہوگی اور جو مجھے علم ہے جس طرح وہاں حکومت کے انتظامات ناکام ہوتے ہیں۔تو میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اکثر اُن میں سے محروم ہی رہیں گے بیچارے۔تو یہ جماعت کراچی کو، راولپنڈی کو ، اسلام آباد کو انفرادی طور پر ان