خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 884 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 884

خطبات طاہر جلد ۶ 884 خطبہ جمعہ ۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء پیچھے رہ گئی ہے لیکن اس کے باوجود پچھلے سال کے مقابل پر جو کل ان کی وصولی آٹھ سو ترانوے پاؤنڈ تھی صرف یعنی اگر ڈالر کو پاؤنڈ میں تبدیل کیا جائے تو۔اس سال چار ہزار چار سو بہتر (۴۴۷۲) پاؤنڈ ہے یعنی پانچ گنا زیادہ۔پھر سوئٹزرلینڈ ہے وہاں بھی ڈیڑھ گنا اضافہ ہے۔پھر جرمنی ہے وہاں بھی ڈیڑھ گنا اضافہ ہے۔پھر کینیڈا ہے وہاں بھی 1۔75 گنا زیادہ اضافہ ہے۔تو جو بڑے ممالک ہیں جو چندے کی Back Bone بناتے ہیں باہر کی دنیا میں یعنی اس چندے کی جس کو ہم دوسرے ملکوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔افریقہ کو میں نے اس لئے شمار نہیں کیا کہ وہاں اکثر ہم روپے کو باہر منتقل ہی نہیں کر سکتے۔ایسے ممالک میں جو چندے کی ریڑھ کی ہڈی بنا رہے ہیں ان میں تو نمایاں اضافہ ہے۔اس لئے ہمارا جو شعبہ ہے اس کو اپنے اعداد و شمار بھی درست کرنے چاہئیں اور توجہ دلانے کے کام کو تیز کرنا چاہئے۔میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ بہت جلد یہ رقم کم سے کم ایک لاکھ تک تو ضرور پہنچ جائے گی سالانہ کیونکہ پاکستان کے حالات میں اگر وہ ستائیس لاکھ سے زائد جیسا کہ دینے والے ہیں امید ہے انشاء اللہ میں لاکھ تک وہ دے دیں گے امید رکھتا ہوں۔پاکستان کے حالات میں اگر وہ اتنی قربانی دے سکتے ہیں تو بیرونی حالات میں کم سے کم پاکستان جتنی ساری دنیا کو قربانی دینی چاہئے اور یہ کم سے کم معیار ہے۔تو اس کی طرف نسبتاً زیادہ توجہ کریں اور آخری بات یہ ہے کہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ شامل کریں اور ان کے ذریعے دلوائیں۔میرے پیش نظر صرف روپیہ نہیں ہے بلکہ روپیہ جس مقصد کی خاطر حاصل کیا جاتا ہے وہ مقصد بہر حال اولیت رکھتا ہے یعنی تربیت اور اللہ سے تعلق۔چندہ دینے والے کا سب سے بڑا پھل سب سے بڑا اجر اس دنیا میں یہ ہے کہ وہ خدا کے قریب ہو جاتا ہے اور جو بچوں سے چندے دلوائے جاتے ہیں ان کے اوپر اس قربت کا اثر ساری زندگی رہتا ہے، ایسی چھاپ ہے بچپن کی نیکی جو ان کے بڑھنے کے ساتھ خود بھی بڑھتی رہتی ہے اس کا نقش مٹنے کی بجائے اور زیادہ زندگی میں گہرا جمتا چلا جاتا ہے۔اس لئے اپنے بچوں کو باشعور طور پر وقف جدید میں شامل کریں یعنی وہ بچے جو باشعور طور پر داخل ہو سکتے ہیں ورنہ تو پہلے دن کے بچے کو بھی مائیں شامل کر دیتی ہیں بعض مائیں تو پیدا ہونے والے بچے کو بھی شامل کر دیتی ہیں جو ابھی پیٹ میں ہے اور لکھوا دیتی ہیں وعدے تو اللہ تعالیٰ اس روح کو اور بڑھائے لیکن جو باشعور بچے ہیں ان کے ہاتھ سے دلوانا اور ان کی تعداد میں اضافہ کرنا آپ کے لئے دوہرے اجر کا موجب بنے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔