خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد ۶ 762 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء کی نمائندگی کا اس کو حق حاصل ہے تو پھر اپنے فیصلوں اور اپنی آراء کو اس کی رائے پر اور اس کے فیصلے پر کبھی ترجیح نہ دیں۔اگر آپ نے کبھی ترجیح دی تو حبل اللہ سے آپ کا ہاتھ چھٹ جائے گا اور قرآن کریم کی آیت آپ کو حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دے گی۔آپ مشورہ دیتے ہیں اور مشورے میں تقوی ضروری ہے اور بسا اوقات ایک نا تجربہ کار آدمی تقویٰ پر مبنی مشورہ بھی دیتا ہے اور وہ مشورہ قابل قبول نہیں ہوتا۔اس لئے آخری فیصلہ دین میں نبی اور نبی کے بعد خلیفہ کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے اور قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ اے محمد ﷺ ! تو خدا کی رسی ہے لیکن بنی نوع انسان کی تربیت کی خاطر ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ اس سے مشورہ ضرور کر لیکن مشورے پر چلنا فرض نہیں ہے۔فیصلہ تجھے کرنا ہوگا۔فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ ( آل عمران :۱۶۰) تو خدا کا نمائندہ ہے اس لئے مشورہ سن اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر اور پھر جو کچھ تقویٰ کے ساتھ تو سمجھتا ہے کہ خدا کی رضا اس میں ہے اس پر قائم ہو جا اور چونکہ ہم جانتے ہیں کہ تیرا فیصلہ ہمیشہ رضا کی خاطر ہو گا اس لئے فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ پھر یقین کر کہ اگر ساری دنیا کی رائے کو بھی تو نے رد کر دیا تو جس خدا کی خاطر تو نے رد کیا وہ خدا تیرا ساتھ دے گا اور تجھ سے وفا کرے گا اور تجھے نہیں چھوڑے گا اور تجھے لازما کامیاب کرے گا۔یہ ہے تو کل علی اللہ کا مضمون۔پس آج کی شوری کے ساتھ بھی اس مضمون کا تعلق ہے۔آپ جتنے بھی مشورے دیتے ہیں اپنی انا کی خاطر نہیں دیتے، اپنی قومیت کی خاطر نہیں دیتے ، اپنے رنگ اور نسل کی خاطر نہیں دیتے محض اللہ کی خاطر دیتے ہیں اور اس لئے وہ جس کی بیعت آپ نے اللہ کی خاطر کی ہے اس کے فیصلے کو خدا کی خاطر قبول کرنا آپ کے ایمان کا جز ہے، آپ کے ایمان کا جز ہی نہیں بلکہ آپ کے ایمان کی بنیادی شرائط میں داخل ہیں۔یہی وہ تربیت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے صحابہ رضوان اللہ میم نے پائی اور یہی وہ تربیت ہے جو خلفاء نے ہمیشہ جماعت کی کی اور اسی تربیت میں ہم پل کر جوان ہوئے ہیں۔میں کسی قیمت پر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس عظیم تربیت سے آپ کے قدم ہٹنے دوں ، اس راہ سے آپ کو بھٹکنے دوں۔اس لئے میں خوب کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ حبل اللہ سے تعلق کا یہ مطلب ہے آپ میں سے جو خدا سے وفا کرتے ہیں وہ لا زما خدا کے نمائندوں سے وفا