خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد ۶ 757 خطبہ جمعہ ۱۳/ نومبر ۱۹۸۷ء حملہ کرنے والی ہو اور اس محبت کے نتیجے میں ان لوگوں کی محبت پر حملہ کرے جو خدا کی خاطر آپ کو پیارے ہیں ،اس نظام پر حملہ کریں جو خدا کی خاطر آپ کو پیارا ہے۔وہ شیطان ہیں جو یہ آواز اٹھانے والے ہیں ، ان کی آواز کو دھتکار دیں اور رد کر دیں۔بعض دفعہ یہ شیطان واضح ہو کر حملہ کرتا ہے بعض دفعہ چھپ کر حملہ کرتا ہے۔بعض دفعہ براہ راست حملہ کرتا ہے، بعض دفعہ ایسے نمائندوں کے ذریعے حملہ کرتا ہے جن کو آپ نیک دیکھتے ہیں، جن کو آپ اچھا پاتے ہیں۔دیکھتے ہیں کہ وہ لمبے سجدے کر رہے ہیں، وہ نمازوں میں آگے ہیں اور دین کے کاموں میں بظاہر پیش پیش ہیں اور اس نتیجے میں آپ دھوکا کھا جاتے ہیں۔قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ کیا دیکھو، کس طرف سے بات آرہی ہے۔قرآن کریم نے فرمایا کہ میری محبت کو عزیز تر کر لو اور اپنے تعلق کو میرے تعلق کی بنا پر مضبوط کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو پھر تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔پس اگر ایک نیک آدمی کی طرف سے ایک ایسی آواز اٹھتی ہو جس کے نتیجے میں وہ لوگ جو خدا کی خاطر آپ کو پیارے ہوں ان کے خلاف دل میں بغض پیدا ہوتا ہے تو وہ آواز نیک انسان کی طرف سے نہیں شیطان کی طرف سے ہے۔وہ نیک آدمی اگر بظاہر نیک ہے تو پھر وہ شیطان کا نمائندہ بن چکا ہے، آلہ کار بن چکا ہے۔اس کو علم نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔اس لئے ہر اس کوشش کو پہچانیں کہ وہ اپنی ذات میں بد ہے یا اچھی ہے۔اگر وہ تفرقہ پیدا کرنے والی کوشش ہے تو یقیناً خدا کی طرف سے نہیں کیونکہ قرآن کریم نے ان آیات میں خوب کھول دیا ہے، بار بار کھول دیا ہے کہ خدا تو تفرقوں سے نکال کر اجتماع کی طرف لانے والا ہے۔وہ تو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے کر آتا ہے۔کیسے ممکن ہے کہ خدا سے پیار کرنے والے کی آواز تمہیں دوبارہ ان اندھیروں میں دھکیل دے دوبارہ افتراق کا نشانہ بنادے۔اس لئے کسی نوع کا افتراق ہو جو بات بالآخر آپ کو اپنے بھائیوں سے دور لے جانے والی ہو، نظام جماعت سے دور لے جانے والی ہو وہ آواز خدا کی آواز نہیں ہے۔اس ملک میں کئی قسم کے ایسے خطرات ہیں۔بعض دفعہ آپ کو کہنے والے یہ کہیں گے کہ فلاں آدمی امیر ہے اور اس کی زیادہ عزت ہے اور ہم غریب ہیں یا فلاں غریب ہے اس کی عزت نہیں ہے۔اس لئے جماعت تقویٰ سے ہٹ گئی ہے، اس لئے جماعت سے تعلق کمزور ہو جانا چاہئے ، اس لئے ایسے لوگوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنانا چاہئے۔واقعہ یہ ہے کہ اگر یہ ایسی بات درست ہے تو وہ بدنصیب