خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد ۶ 19 64 خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۸۷ء اور کوشش کریں گے۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے اب تک اللہ کے فضل سے سو سے زیادہ ممالک میں احمدی موجود ہیں بعض جگہ منظم نہیں بھی ہیں مگر ہو سکتے ہیں بڑی جلدی۔اس لئے انشاء اللہ تعالیٰ یہ بات پوری ہو جائے گی۔مثلاً اٹلی ہے۔اٹلی ان ممالک میں سے ہے جس کا ذکر کوئی نہیں حالانکہ وہاں خدا کے فضل سے ایسے احمدی موجود ہیں جو وہاں جا کر اٹلی کے باشندے بن گئے اور بعض اٹلی سے باہر احمدیت قبول کر کے احمدیت میں داخل ہوئے وہ خواہ ان ممالک میں بھی ہوں مگر اٹلی کے اندر بھی باہر سے جا کر اٹالین بننے والے موجود ہیں تو اٹلی کا وعدہ تو ہونا چاہئے تھا بہر حال۔تو یہ کچھ کوتاہی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ بہت مغفرت فرمائے ان کی ، ہم سب کی جن سے کوتاہی ہوئی۔تو تیزی کے ساتھ مال کے شعبے کوملحوظ رکھنا چاہئے اب کہ جائزہ لے کر نہ صرف یہ سوچیں کہ ایک بھی ملک ایسا نہ رہے جس سے وعدے کے لئے وہ انتظام کرنے کی کوشش نہ کریں۔بلکہ کس طرح کرنا ہے یہ بھی سوچ کر بعض ممالک کے سپر د کریں۔بہت سے ممالک ہیں جن کے سپر د دوسرے ممالک میں تبلیغ ہے اور اس طرح ساری دنیا کے حصے بانٹے ہوئے ہیں۔تو تحریک جدید کے شعبہ کا کام یہ ہے کہ وہ صرف یہ خط نہ لکھ دے کہ جی آپ نے کرنا ہے بلکہ بتائے کہ کس طرح کرنا ہے اور ان کی مدد کرے۔مثلاً شمالی افریقہ میں چند ممالک ہیں جہاں پہلے احمدیت کا با قاعدہ پودا نہیں لگا تھا اب لگ چکا ہے۔اس لئے مال کے شعبہ کو تبشیر سے رابطہ کرنا پڑے گا پوچھنا پڑے گا کہ بتائیے وہ کون لوگ ہیں کہ جو نئے احمدی ہوئے ہیں؟ کیا ان کے پتے ہیں؟ کس طرح ان سے بات کرنی ہے؟ اور اگر ذراسی بھی محنت کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ ان کو کھلا کھلا رستہ دکھائی دینے لگ جائے گا کہ کس طرح ان ممالک کو شامل کرنا ہے۔تو واقعاتی طور پر کام کو آگے بڑھا ئیں صرف فرضی طور پر نہ بڑھا ئیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو اور ہمیں توفیق دے کہ جماعت احمدیہ کے پہلے سو سال کا جو جشن ہم نے منانا ہے وہ اس کی رضا کے مطابق منانے والے ہوں۔اس جشن سے پہلے ہم اپنے وعدوں کو پورا کرنے والے ہوں اور خدا تعالیٰ کی اس شان کی گواہی دینے والے ہوں کہ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَا خدا ! جس طرح تو اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا ، ان کو لازماً پورا کرتا ہے ہم تیرے ادنی اور غلام بندے بھی تجھ سے یہ فن سیکھے ہیں اور تیری شان کو دنیا میں ظاہر کرنے والے ہیں کہ ہم بھی تیری طرف منسوب ہو کر جو وعدے کرتے ہیں ان کو لازماً پورا کرتے ہیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔