خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 654
خطبات طاہر جلد ۶ 654 خطبه جمعه ۹/اکتوبر ۱۹۸۷ء طرح وہ عبادت نصیب ہو؟ اس کے لئے فرمایا اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تجھ سے یہ مدد چاہتے ہیں۔تیری مدد کے بغیر عبادت نصیب نہیں ہو سکتی۔مگر اصل پیغام اس دعا میں ہی ہے کہ عبادت تو کرنا چاہتے ہیں مگر ویسی عبادت کرنا چاہتے ہیں جیسی محمد مصطفی می ا ہو نے کی تھی کیونکہ تو نے خود سے عبد کا خطاب دیا قاما عبدالله (الجن : ۲۰) قرآن کریم نے سب سے بڑا لقب جس کسی نبی کو عطا کیا ہے وہ عبداللہ کا لقب ہے چنانچہ فرمایا کہ حمد عبد اللہ ہے۔پس عبادت کا عبد کے ساتھ گہرا تعلق ہے ایک ہی لفظ کی دو مختلف شکلیں ہیں پس جب آپ کہتے ہیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ تو اس میں یہ بات داخل کریں کہ آنحضرت ﷺ نے جس طرح تیری عبادت کی تھی ویسی ہی عبادت ہم کرنا چاہتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے تو عشق کے ساتھ عبادت کی تھی اور عشق از خود پیدا نہیں ہو سکتا۔اس لئے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے خدا! اس معاملے میں ہم بالکل نا اہل اور بالکل صفر ہیں کوئی ہماری حالت نہیں ہے، دعویٰ اتنا بلند اور اعمال ایسے کمزور۔صرف ایک سہارا ہے کہ عبادت کی توفیق بھی تجھ سے مانگیں۔پس ہمیں حضرت محمد مصطفی ﷺ جیسا عبد بنادے۔اگر اس نیت سے آپ دعا کریں گے تو اللہ کی عبادت کا گر بھی آپ کو نصیب ہو گا اور حضرت محمد مصطفی اللہ کا عشق بھی آپ کو نصیب ہوگا ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں آخر پہ ، ان دوباتوں میں پھر کوئی تفریق نہیں رہتی۔اس نیت سے اس مضمون کے مطابق اگر آج امریکہ کا ہر احمدی اپنی تربیت شروع کر دے اور اپنے بچوں کی تربیت شروع کر دے تو اتنی عظیم الشان طاقت آپ میں سے پیدا ہوگی کہ آپ باوجوداس کے کہ اب بھی خدا کے فضل سے اپنی نیکیوں کی وجہ سے ایک طاقت ہیں۔آپ تصور نہیں کر سکتے کہ آپ میں اندر کتنی مزید طاقتوں کے امکانات موجود ہیں ایک نا قابل تسخیر قلعہ بن جائے گا اسلام کے لئے امریکہ۔دنیا میں ہلاکتیں پھیلانے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ ساری دنیا کے لئے امن کا ذریعہ بن سکتا ہے اگر امریکہ میں بسنے والے احمدی اس نسخے کو آزمائیں اور اس نسخے کے اوپر ہمیشہ عمل کرنے کی کوشش کریں اور خالصہ اللہ اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبت کو اپنی ذات میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔کام آپ کو دیئے جاتے ہیں یہ کوئی مصنوعی حیثیت نہیں رکھتے ، پھر کوئی بیرونی تلقین کی حیثیت نہیں رکھتے یہ آپ کے دل سے اگیں گے آپ کے دل کی تمنا بنیں گے پھر قربانیوں کے لئے