خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد ۶ 652 خطبه جمعه ۹/اکتوبر ۱۹۸۷ء جو آپ کو بچا سکتی ہے اور وہی ایک ذات ہے جو تمام دنیا کے لئے امن کی ضمانت دے سکتی ہے۔اس ذات کو تمام دنیا میں منتشر کرنا پڑے گا ، اس کا عکس ہر دل میں اتارنا ہوگا۔یہ وہ رستہ ہے جس کے سوا اور کوئی نجات کا رستہ نہیں اور اگر آنحضرت ﷺ کی سیرت اور خصوصیت سے اس پاکیزہ رحمت للعالمین کے رجحان کو اپنے دلوں میں آپ سالیں اور اس کی حفاظت کریں اور اس کی پرورش کریں تو ناممکن ہے کہ خدا آپ کو ہلاک ہونے دے، ناممکن ہے کہ یہ جذ بہ کسی اور نفرت کے جذبے سے شکست کھا جائے۔ہر چیز ممکن ہے لیکن محمد مصطفی امیہ کی سیرت کے مقدر میں شکست ممکن نہیں۔اس لئے اس طاقت کے سرچشمے کے ساتھ کھڑے ہو جا ئیں اور اس سے آپ پانی پئیں جو سر چشمہ ہمیشہ کی فتح کے لئے ایک آب حیات کا مقام رکھتا ہے لیکن یہ کہنا آسان ہے جب ہم اس کی تفصیل میں جاتے ہیں تو پھر دل مزید ڈولنے لگتا ہے اور کئی قسم کے خطرات سامنے آتے ہیں۔کتنا تسکین بخش ہے یہ مضمون لیکن مشکل بھی تو بہت ہے۔عام دنیا میں کسی کو آپ ہیرو بنائیں اپنا، معمولی سی ذات ہو ، ویسا بننے کی کوشش کریں ساری عمر آپ گزار دیں گے پھر بھی بسا اوقات آپ میں اکثر ویسا نہیں بن سکیں گے۔بعض لوگ اپنا ہیرو بناتے ہیں اور اس کی آواز Imitate کرتے ہیں اس کی طرز Imitate کرتے ہیں اس کی نقالی کرتے ہیں کہ ہم ویسے ہو جائیں اور یہ ہیر ومختلف قسم کے ہیں۔بائرن ایک دفعہ ایک زمانے میں بڑا بدکردار نواب مشہور تھا بہت اچھا شاعر تھا مگر وہ ہیرو بن گیا۔وہ لنگڑا کر چلا کرتا تھا، ہلکی سی لنگڑاہٹ تھی اس کی چال میں اور انگلستان کے بڑے بڑے لارڈ اور بڑے بڑے جو چوٹی کے فیشن میں آگے آگے لوگ تھے انہوں نے بھی لنگڑا کر چلنا شروع کر دیا۔عجیب حال تھا۔تو دنیا تو اپنے ہیرو کی خاطر لنگڑا کے چلتی ہے، آپ محمد مصطفی ﷺ کی خاطر کیوں ہمیشہ کا ، ابدی حسن اختیار نہیں کرنے کی کوشش کرتے ؟ اس ذات کو اپنا ہیرو بنا ئیں۔اس جیسا بننے کی کوشش کریں اور یقین رکھیں کہ اس کی ہر ادا پیاری ہے، ہر ادا زندہ رکھنے کے لائق ہے اور خدا ہر ادا کولا زما زندہ رکھے گا۔کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جومحمد مصطفی امت ہے کی اداؤں کو مٹا دے۔انہی اداؤں میں آپ کی زندگی ہے اور انہی اداؤں کے ساتھ آج تمام دنیا کی زندگی وابستہ ہوچکی ہے۔مشکل ہے لیکن محبت سے یہ مضمون آسان ہوتا ہے، تلقین سے آسان نہیں ہوگا، نصائح سے