خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 626
خطبات طاہر جلد ۶ 626 خطبه جمعه ۱/۲ کتوبر ۱۹۸۷ء زیادہ قطعی طور پر میں موازنے کا اہل ہو سکوں گا لیکن سردست یہ خوش کن پہلو تو بہت ہی ظاہر و باہر ہے کہ گزشتہ دورے کے مقابل پر آج امریکہ کی جماعتوں کو بہت زیادہ متحکم مراکز حاصل ہو چکے ہیں اور بالعموم نظام جماعت سے وابستگی کے معیار میں بھی نمایاں اضافہ معلوم ہوتا ہے۔بہت سے ایسے چہرے ہیں جو آج میں دیکھ رہا ہوں جو میرے لئے اس پہلو سے نئے ہیں کہ گزشتہ سفر میں وہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک تو یہ بھی ہے کہ میرا پہلا سفر محض انفرادی حیثیت سے تھا اور باہر کے رہنے والے دوستوں کے لئے نہ ضروری تھانہ ان کے دل میں کوئی طبعی خواہش تھی کہ وہ سفر کر کے تشریف لائیں اور جہاں میں جمعہ ادا کروں وہاں وہ بھی ادا کریں۔اس لئے طبعی طور پر خلیفہ وقت کے دورے اور ایک عام احمدی کے دورے کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔دوسرے ایک یہ بھی وجہ ہے اور کچھ معاملات میں میں جانتا ہوں کہ یہ بھی ہوگی کہ پہلے ایسے لوگ بھی تھے جو یہاں رہتے ہوئے بھی جماعت سے تعلق نہیں رکھ رہے تھے۔اس تعلق نہ رکھنے کی وجہ ایک تو اچھے مرکز کا فقدان تھا۔بعض ایسے دوست تھے جن سے میں نے خود پوچھا کہ آپ جہاں تک میر اعلم ہے جب پاکستان میں یا ہندوستان میں تھے آپ کا تعلق جماعت سے اچھا تھا اب میں آپ کو نیو یارک کے مرکز میں نہیں آتا دیکھتا کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ علاقہ ایسا ہے وہاں جانا خطر ناک ہے وہاں ہم اپنے بچوں کو نہیں لے جاسکتے اور ایسا ماحول ہے تاریک کہ آپ کو اندازہ نہیں آپ تو آج آئے ہیں کل چلے جائیں گے یہاں تو Mugging بڑی ہوتی اور یہ ہوتا ہے اور وہ ہوتا ہے۔اس سے مجھے عام طور پر پاکستانی دوستوں کے مزاج کا علم ہوا اگر چہ کسی حد تک یہ بات درست تھی کسی حد تک یہ عذر لائق پذیرائی ضرور تھا لیکن اس حد تک نہیں کہ انسان اپنے ہاتھوں سے اپنا دین کھو بیٹھے، اس حد تک نہیں کہ اتنی عظیم قربانی دے کہ جماعت کے ساتھ تعلق توڑ بیٹھے اور دور ہو جائے اور نظام جماعت سے جو انسان کی زندگی وابستہ ہے خود اس رگ کو قطع کر لے۔چنانچہ اس پہلے تجربے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ جہاں کہیں بھی ایسے مراکز ہوں جہاں سے زیادہ خطرات لاحق ہوں میں وہیں جا کے ٹھہروں گا اور پسند کروں گا کہ اپنے ان بھائیوں کے درمیان ٹھہروں جن کو بدبختی سے اور بدقسمتی سے بعض لوگ اپنے سے گھٹیا سمجھتے اور نفرت کی نظر سے دیکھتے تھے تا کہ میرے ملنے کے بہانے ہی کچھ ایسے دوست وہاں آجائیں جو پہلے نہیں آسکتے تھے یا نہیں آیا کرتے تھے۔