خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 552

خطبات طاہر جلد ۶ 552 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۸۷ء اس پہلو سے لوگوں کے پریشانی اور گھبرانے کے خط موصول ہوتے رہے۔میرا ان سب کو جواب یہ ہے کہ یہ واقعات زندہ قوموں کے ساتھ چلتے ہیں اور ان سے دیکھ تو ضرور پہنچتا ہے لیکن ان واقعات کے نتیجے میں طبیعتوں پر گہرے اثر نہیں قائم رہنے چاہئیں کیونکہ ہمارے تو بہت بڑے سفر ہیں، ہمارے ارادے بہت بلند ہیں، یہ معمولی چھوٹی چھوٹی چیزیں تو Pinpricks کی طرح ہیں جیسے لمبے سفر کرنے والے قافلوں میں سے بعض کو رستے میں ایک کانٹا چبھ جاتا ہے۔ساری دنیا کی ایک سو چودہ (ممالک کی ) جماعتیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی اسلام کی شاہراہ پر دن بدن آگے بڑھ رہی ہیں۔آپ بھی ان میں سے ایک ہیں۔آپ میں سے، ہالینڈ کی جماعتوں میں سے ایک کو یا ایک کے پاؤں کو جو کانٹا چبھا ہے اس کی تکلیف میں بھی ساری دنیا کی جماعتیں حصہ دار ہیں۔تو اس کانٹے کو اتنا زیادہ نہ منائیں کہ گویا قیامت آپ پر ٹوٹ پڑی ہے۔اس کے برعکس یہ سوچیں کہ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے کیا کیا فضل آپ پر مزید نازل ہوں گے جیسے ہمیشہ ہوتے رہے ہیں۔اس کے جو نقصانات ہیں ان کا ازالہ کیسے ہو گا وہ تو معمولی بات ہے وہ میں آپ سے ابھی بعد میں ذکر کروں گا۔سب سے بڑا نقصان جس کا مجھے خطرہ تھا وہ آپ کی طبیعتوں کی پژمردگی ہے۔اگر ایسے واقعات پر طبیعتیں پژمردہ ہو جائیں تو ہمارا تو سب سے بڑا وہ نقصان ہے۔آپ کے عزم پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہئے ، آپ کے ارادوں کے سر بلند رہنے چاہئیں۔ایک ادنی ساخم بھی آپ کی پیٹھ پر ظاہر نہیں ہونا چاہئے ان بوجھوں کے نتیجے میں۔یہ ہے مردانگی کی علامتیں جن کی خدا مومن سے توقع رکھتا ہے۔پس آپ اپنا کام کریں اللہ تعالیٰ کی تقدیر اپنا کام کرے گی۔بھلا ان ایسی ذلیل حرکتوں سے کبھی تو میں دنیا میں تباہ ہوا کرتی ہیں یا رستوں سے ہٹا کرتی ہیں یا ان کے عزم پر آنچ آیا کرتی ہے۔چھوٹی معمولی سی کمینی سی حرکت ہے، ایک چھوٹے سے دل کی پیداوار ہے ، چھوٹے کوتاہ ذہن کی پہنچ بس یہیں تک ہی ہو سکتی ہے کہ مسجد کو جلا دیا جائے کسی کو دکھ دیا جائے کسی کو نقصان پہنچایا جائے۔ہر لحاظ سے ایک بہت ہی کمینی اور چھوٹی سفلہ حرکت ہے اور اس کے برعکس آپ کو یہ ایک بڑا غیر معمولی تاریخی اعزاز حاصل ہو گیا کہ آپ ان لوگوں میں، ان قوموں میں داخل ہوئے جن کو خدا کے نام پر تکلیف دی جاتی ہے، جن کی عبادت گاہوں کو خدا کی دشمنی میں جلایا جاتا ہے۔بہت بڑا ایک