خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۶ 260 خطبہ جمعہ ۷ ا ر اپریل ۱۹۸۷ء جائیں گے اس کے بعد افتتاحی دعا بھی ہم اکٹھے کر لیں گے پھر میں آپ سے اجازت چاہوں گا۔دوسرے اس کی اس لئے بھی ضرورت پیش آگئی کہ آپ لوگوں کو جب تک نعرے نہ لگا ئیں مزہ نہیں آتا اور یہ آپ کی مجبوری خاص طور پر ہے کیونکہ دنیا کی جتنی بھی احمد یہ جماعتیں میری نظر میں ہیں اور بہت بڑی تعداد ہے جو میری نظر میں ہے ان میں نو جوانوں کا ایسا تناسب اور کہیں نہیں جیسا جرمنی میں ہے۔اس وقت یہ جماعت کا اجتماع ہے لیکن سرسری نظر سے کوئی پہچان نہیں سکتا کہ یہ جماعت کا اجتماع ہے یا خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے۔اس پہلو سے آپ کا خون ماشاء اللہ گرم ہے اور جلسے پر نعرے لگانے کی عادت ہے اور جمعہ پر نعرے لگا نہیں سکتے منع ہے اس لئے کچھ آپ کو خلا کا احساس رہ جانا تھا تو چند منٹ جو آپ کے ساتھ گزاروں گا اس وقت بے شک جتنے نعرے لگانے ہیں لگا لینا لیکن جمعہ کے آداب کولو ظ ر کھتے ہوئے اس خطاب کے دوران ہرگز کسی قسم کی کوئی آواز بلند نہ ہو۔گزشتہ چند خطبات میں میں تقویٰ کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا رہا ہوں اور یہ سلسلہ ابھی آگے بڑھانے کا پروگرام ہے۔آج بھی اسی موضوع سے متعلق میں چند باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں کچھ ہو سکتا ہے پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن بطور خاص آج کے اجتماع میں میں سمجھتا ہوں کہ تقویٰ کے ایک دو ایسے پہلو ہیں جن کا یہاں بیان کرنا بہت ضروری ہے۔میں اس سے پہلے بتا چکا ہوں کہ تقویٰ ایسے خوف کو نہیں کہتے جیسے کسی جنگلی جانور سے یا فرضی توے سے خوف ہوتا ہے۔تقویٰ کا یہ ترجمہ اللہ کا خوف اختیار کرو، اللہ کا ڈراختیار کرو یہ ایک زبان کی مجبوری ہے ورنہ حقیقت میں ڈر اور خوف تقویٰ کے مضمون کو ہرگز بیان نہیں کر سکتے۔وجہ یہ ہے کہ ڈر کے نتیجے میں تو انسان دور بھاگتا ہے۔جس چیز سے خوف ہواس سے ہلتا ہے اور بچتا ہے اور اللہ سے تعلق میں تو خدا تعالیٰ تقویٰ کے ذریعے بندے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔جتنا تقویٰ کا معیار بڑھتا چلا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ انسان اپنے آپ کو خدا کی گود میں محسوس کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔ے ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار (در تمین صفحه: ۱۲۶)