خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 847
خطبات طاہر جلد۵ 847 خطبہ جمعہ ۱۹ رد سمبر ۱۹۸۶ء خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: پرائیویٹ سیکرٹری نے ایک فہرست دی ہے بعض مخلصین جماعت کی فہرست ہے جو وفات پاگئے ہیں۔ان کے متعلق ان کے عزیزوں نے بھی اور بعض دوسروں نے بھی جو جماعتی طور پر ان کے حالات سے واقف تھے انہوں نے پر زور درخواست کی ہے کہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی جائے۔مکرم ایم عبدالرشید صاحب ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے، ساتھ لکھا ہوا ہے کہ تعارف منسلک ہے لیکن وہ صفحات الگ کہیں رہ گئے ہیں۔مکرم مہر اللہ یار صاحب جو اوصاف احمد صاحب آف مظفر گڑھ کے والد تھے اور مرحوم شدید مخالفت کے زمانہ میں ڈیرہ غازی خان میں رویا کے ذریعہ احمدی ہوئے اور پھر اللہ کے فضل کے ساتھ ہمیشہ ہی کچی رؤیا دیکھنے والے بہت ہی بزرگ، دعا گو تھے انہوں نے بہت شاندار استقامت دکھائی ہے۔غلام احمد مصطفیٰ صاحب کماس ضلع لاہور کے رہنے والے تھے۔کماس کی جماعت کے پریذیڈنٹ بھی رہے ہیں۔میاں محمد اسماعیل صاحب موصی تھے۔ہمارے عبد الحمید غازی کے چھوٹے بھائی کے خسر تھے مڈھ رانجھا کے رہنے والے تھے۔جمشید خان صاحب یہ ہمارے بیت المبارک ربوہ کے ایک موذن بشیر احمد کا نوجوان بیٹا جسے شہید کر دیا گیا تھا ان کی نماز جنازہ غائب پہلے نہیں ہو سکی۔پروفیسر محمد طفیل ناز صاحب ایم۔اے سرگودھا سابق منگل اور وٹرنری ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے خسر تھے۔میاں محمد داؤ د صاحب یہ میاں محمد یوسف صاحب سابق پرائیویٹ سیکرٹری حضرت مصلح موعودؓ کے صاحبزادہ تھے۔مکرمہ شیریں بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم میر نور احمد صاحب تالپور۔ان کی دو بیگمات تھیں۔شیریں بیگم صاحبہ پچھلی دفعہ جلسہ پر آئیں ہوئی تھیں دوسری بیگم یہاں تھیں۔ان کی دوسری بیگم کی بہن مریدہ بیگم جو واقف زندگی ہیں اور اسلام آباد میں رہتی ہیں ان کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں ابھی حال ہی میں وہ واپس گئی ہیں۔میر نور احمد تالپور کا خاندان بھی سندھیوں میں سے