خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 823 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 823

خطبات طاہر جلد۵ 823 خطبه جمعه ۱۲ار دسمبر ۱۹۸۶ء ہر دنیا کا ثالث جس میں تقویٰ کی کوئی بھی رگ ہو تو وہ جماعت احمدیہ کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے مجبور ہوتا ہے۔اتنے مخالفانہ ماحول میں جہاں مرتد کی سزا قتل کی باتیں ہورہی ہوں وہاں ایک معزز مسلمان جو دوسرے فریق کا ہم خیال اور ہم عقیدہ ہو اور ایسے ماحول میں جہاں مخالفت کے طوفان برپا ہوں ہر ایک کے بعد دوسرا اٹھتا ہو وہاں اس جرات سے اعلان کر دینا کہ احمدی سچے ہیں اور تم غلط کہہ کر رہے ہو بڑی بات ہے۔ہم تو اس معاملہ میں بالکل بے خوف ہیں بلکہ خوف ہی نہیں کامل یقین کی بنیادوں پر قائم ہیں غیر متزلزل بنیا دوں پر قائم ہیں، تمام قرآن ہمارے ساتھ ہے، تمام سنت ہمارے ساتھ ، ہے تمام عقلی شواہد ہمارے ساتھ ہیں کہ آیت خاتم النبین پر جس معرفت کے ساتھ ، جس گہرائی کے ساتھ جماعت احمد یہ ایمان رکھتی ہے ویسا دنیا کی کوئی اور جماعت ایمان نہیں رکھتی۔مگر بہر حال اس میں تو ان کے منہ کی بات ہی کافی ہے۔صرف لوگوں کو یہ کہہ دینا کہ جماعت احمد یہ ختم نبوت کی قائل نہیں یہ اعلان ہی کافی تھا پھر اس سے آگے دلیل کی ضرورت نہیں کبھی گئی۔چونکہ حکومت کا ملاں یہ کہہ رہا ہے کہ یہ قائل نہیں اس لئے دنیا اسے صحیح مان لے گی۔پہلے بھی پراپیگنڈا بہت ہو چکا ہے اور ہمیں جوابی کارروائی کی اجازت ہی نہیں دی جاتی۔تیسرا پہلو یہ تھا کہ اب اگر ختم نبوت کی قائل نہیں ہے تو پھر ان کے خلاف جہاد کس طرح فرض ہوتا ہے اور حکومت کو کیا کرنا چاہئے۔اس کے لئے بھی انہوں نے یہ دلیل قائم کی کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں اگر چہ آنحضور ﷺ کی زندگی نے وفا نہیں کی اس لئے آپ جھوٹے دعویداران نبوت کے خلاف خود جہاد نہیں کر سکے۔بات یہاں سے شروع ہوئی۔پہلا قدم ہی وہ قدم اٹھایا جس نے ان کی بات جھوٹی کر دی۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے کئی سال آپ کی زندگی میں دعوی کئے رکھا اور اسود عنسی نے آپ کی زندگی میں دعویٰ کیا اور آنحضر نے کوئی فوج کشی ان کے خلاف نہیں کی۔مولوی صاحب فرمانے لگے ٹیلیویژن پر کہ رسول اکرم ﷺ آخری وقت میں یہ ہدایتیں تو دے گئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دوسرے بزرگ صحابہ کو ان کا قتل و غارت کر ولیکن آپ کی زندگی نے وفا نہیں کی اس لئے آپ خود نہیں کر سکے۔حالانکہ مورخین یہ لکھتے ہیں کہ