خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 821
خطبات طاہر جلد۵ 821 خطبه جمعه ۱۲ ردسمبر ۱۹۸۶ء احمدیہ کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کی دل سے قائل ہے۔اگر یہ بات ان کے نزدیک بھی ثابت نہ ہوتی تو وہ اسی بات سے شروع کرتے اور اسی پر ختم کر دیتے کہ یہ کلمہ جماعت احمدیہ کا کلمہ ہی نہیں ہے۔حکومت کا پروردہ ملاں اور ریڈیو اور ٹیلیویژن پر کھلم کھلا یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوا ہے کہ جماعت احمدیہ کو ہم کلمہ سے الگ نہیں کر سکے اور واقعہ یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں جماعت احمدیہ کا نام ہی کلمہ والے پڑ گیا ہے۔چنانچہ مجھے مختلف جیلوں سے بعض احمدیوں کے جو خط آتے ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ہماری تو پہچان ہی کلے والے بن گئی ہے جب کسی افسر نے بلانا ہو یا کسی عدالت میں آواز پڑے تو کہتے ہیں کہ کلمے والوں کو بلا ؤ اور کلے والے صرف ہم ہی ہیں۔کوئی دوسرا سامنے آتا ہی نہیں کیونکہ کلمے والا بننے سے مار پڑتی ہے۔مصیبت میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے۔جیلوں کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔کلے والے تو تب بنیں جب کلمہ کے نتیجہ میں حلوہ ملے، کھیر ملے کھانے کی چیزیں اچھی ملیں ، ہار پہنائے جائیں اچھے کپڑے ملیں پھر تو آدمی شوق سے کلمے والا بنے لیکن جہاں کلمہ کے نتیجہ میں مار پڑے، سزا ملے آنکھوں میں مرچیں ڈالی جائیں، بال نوچے جائیں ،گلیوں میں گھسیٹا جائے ، ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم کیا جائے وہاں کلے والا بننے کے لئے دل گردہ چاہئے اور وہ صرف مومن کا دل گردہ ہے۔یہ جماعت احمدیہ کو ہی نصیب ہے۔اس لئے جب یہ بات ملک میں عام ہوگئی کہ کلمے والے ہیں ہی احمدی۔تو ٹیلیویژن پر آکر کوئی ملاں یہ پوزیشن لے ہی نہیں سکتا تھا کہ احمدی کلمہ چونکہ نہیں پڑھتے اور کلمہ سے تعلق نہیں رکھتے اس لئے یہ مرتد ہیں۔دوسری لائن پر آگے ہیں اس جہاد میں جو جماعت احمد یہ اسلام کے لئے جہاد کر رہی ہے اس میں دشمن کے قدم پیچھے ہٹے ہیں۔یہ بڑی کھلی کھلی بات ہے اور وہ اب بہانہ تلاش کرنے کے لئے دوسری لائن پر آ گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی دوسرے قدم میں کہ جماعت احمد یہ نعوذ بالله من ذلک ختم نبوت کی قائل نہیں۔اب یہ جو منطق نکالی گئی ہے وہ مرتد ہوتا ہے جو ختم نبوت کا قائل نہ ہو اور اسی کے اوپر اسلام میں جہاد فرض ہوا تھا اس کی تفصیل تو انہوں نے جس طرح بیان کی اس کا ذکر تو آگے چل کر کروں گا لیکن یہ دوسری تنقیح بھی بالکل غلط بے معنی اور لغو ہے۔جماعت احمدیہ سے زیادہ ختم نبوت کا دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں۔ہر معنی میں ہر تفسیر