خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 764
خطبات طاہر جلد۵ 764 خطبه جمعه ۴ ارنومبر ۱۹۸۶ء فائدہ پہنچائے یا نہ پہنچائے نصیحت کرنے والے کے لئے جہنم کے سامان ضرور پیدا کرے گی اور یہی وہ چیز ہے بالآ خر جو دنیا کی عاقبت کو خراب کر دیتی ہے۔ایسی ہی نصیحت کے نتیجہ میں پھر وہ تحریکات چلتی ہیں جو دین کو مٹانے کے لئے اٹھتی ہیں اور اس کا نام وہ نصیحت رکھتے ہیں۔یہی وہ جھوٹی نصیحت ہے جو ظلم اور تشد د بن کر آج آپ کی راہ میں کھڑی ہوئی ہے کہ ہم نے تمہیں حق نہیں پھیلانے دینا۔تو آج جس نصیحت کا ظالمانہ پھل کھانے لگے ہیں غیروں کے ہاتھ اسے آپ خود اختیار کر لیں اور اپنی ہلاکت کا موجب بن جائیں یہ کون سی عقل کی بات ہے اس لئے میں حسد سے متنبہ کرتا ہوں، خبر دار کرتا ہوں۔باریک راہیں تقویٰ کی نصیب ہی نہیں ہو سکتیں جب تک حسد کی باریک راہوں سے آپ متنبہ نہیں ہوں گے۔حسد کی باریک راہوں سے آگاہ ہوں تو تقویٰ کی باریک راہیں آپ کو ضرور نصیب ہوں گی۔اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو اس کا پھل آپ کو دنیا میں بھی ملے گا اور گندہ پھل ملے گا۔میرا ایک جائزہ ہے عمومی اور اس جائزہ سے میں بڑا خوف کھاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو نصیحت کرتے ہیں بغض کی بناء پر ان کی اولاد میں ضائع ہو جاتی ہیں۔اگر وہ نصیحت دین تھی تو کیسے ممکن ہے کہ ان کی اولادوں کا دین جاتا رہے اس نصیحت کے نتیجہ میں۔کیسی خدا کی پکڑ ہے جو ادھار نہیں رکھتی۔بڑے بڑے ناصح آپ اس دنیا میں دیکھیں گے جنہوں نے ساری عمر بظاہر نصیحت میں صرف کی ہے لیکن ان کی اولادیں بے دین ہو گئیں، ظالم ہوگئیں، ہاتھ سے نکل گئیں کوئی ان کو روک نہیں سکا۔آنحضرت مع ضرو ریچے ہیں اور ہمیشہ بچے رہیں گے۔آپ فرماتے ہیں الــديــن النصيحة تولا ز ما نصیحت دین پر منتج ہونی چاہئے نہ کہ ظلم اور بے دینی پر۔اس لئے ایسے لوگ جھوٹے ہیں جو بظا ہر ناصح بن کر زندگی بسر کرتے ہیں مگر ان کی اولادیں ان کے ہاتھوں سے نکلتی چلی جاتی ہیں کیونکہ خدا کا قانون ہے کہ اولاد جانتی ہے کہ ماں باپ کے دل میں اصل کیا بات تھی۔کسی کی محبت کے نتیجہ میں بات کر رہا تھا۔یا کسی کے بغض کے نتیجہ میں بات کر رہا تھا بظاہر وہ جب دنیا سے باتیں کر رہا تھا تو اس کا بغض نظر نہیں آتا لیکن گھر میں بچے دیکھ رہے ہوتے ہیں، بچوں سے وہ چھپانے کی کوشش بھی زیادہ نہیں کرتا باہر نصیحت کر کے آتا ہے بڑی ملمع سازی کے ساتھ اور بڑے پیارے شریفانہ مہذب الفاظ میں لپیٹ کر اور گھر میں آکر کہتا ہے کہ دیکھو جی فلاں آدمی فلاں بنا پھرتا ہے یہ تو اس کا حال ہے بیچ میں سے جب اس کا بغض گھر میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے کچھ اس وجہ سے کچھ بچوں کو