خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 666
خطبات طاہر جلد۵ 666 خطبه جمعه ارا کتوبر ۱۹۸۶ء ہوں خدا کے فضل سے وہاں بیرونی رابطے کو میں نے نہایت ہی مؤثر دیکھا ہے اور جن پروگراموں میں شامل ہوئے ہیں ان کے بعد وہ رابطہ بڑھا ہے اور مضبوط تر ہوا ہے خدا کے فضل سے۔اس لئے جو موجودہ ترقی کی انتہا ہے وہ آئندہ ترقی کے لئے قدم رکھنے کی جگہ بن جائے گی اور مزید بلندتر چھلانگ لگانے کی اس جماعت کو تو فیق مل سکتی ہے اگر وہ اس کام کو خلوص اور صبر کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں۔یہ جو ریڈیو پروگرام تھا اس میں بھی ایک صاحب تھے، ان کا مجھے اب نام یاد نہیں ، لیکن بڑے مشہور وہاں کے ہر دلعزیز دوست تھے۔ان کے متعلق یہ تاثر عام تھا کہ یہ سوال و جواب میں اتنے سخت ہیں کہ ان کو شوق ہے کہ جس سے سوال کریں اس کو نیچا دکھا ئیں اور اس کو لا جواب کریں اور اسی بناء پر ان کی زیادہ شہرت ہے۔ان کے متعلق مجھے بعد میں بعض دوستوں نے بتایا کہ ان کے غیر احمدی یا Canadian کینیڈین دوست ان سے کہہ رہے تھے کہ ہمیں تعجب ہوا ہے کہ اس شخص کی لگتا ہے کیفیت ہی بدلی ہوئی تھی اور ساتھ تائید کرتا چلا جاتا تھا اور وہ مزاج ہی نہیں تھا جو پہلے سختی کا مزاج اس کے متعلق ہم جانتے تھے یا جس کی وجہ سے وہ معروف تھا۔اس پروگرام کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ کچھ دیر پروگرام چلتا ہے پھر بیچ میں اشتہارات آتے ہیں اور اشتہارات کے دوران پھر ان کو عام بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔جب اشتہارات کا وقفہ آیا تو اس سوال کرنے والے نے مجھے کہا کہ یہ پروگرام تو صرف ایک گھنٹے کا ہے ، آپ سے چند باتیں میں نے کی ہیں اب میرا دل چاہتا ہے کہ کئی گھنٹے کا آپ کا پروگرام کروں اور سوال کرتا ہی رہوں۔اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے جو باقاعدہ منجھے ہوئے Professional ٹیلیویژن یا ریڈیو سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ان کے اندر بھی صرف مشین والی باتیں نہیں بلکہ انسانی قدریں ہیں۔ورنہ یورپ کے دیگر ممالک میں آپ جیسے چاہیں جواب دیں انسانی لحاظ سے اس قسم کے متعصب ہوتے ہی نہیں کیونکہ ان کی تربیت ایسی ہے کہ تم نے مشین کی طرح رہنا ہے اور انسانی تاثر اس شدت کے ساتھ ان ممالک میں نظر نہیں آتا نہ امریکہ میں آپ کو دکھائی دے گا۔تو کینیڈا میں ہر طرف خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کے ذریعہ اسلام کو پھیلا نے کے عظیم الشان مواقع میسر ہیں۔تو احباب جماعت کو چاہئے کہ دعاؤں کے ذریعہ ان کی مدد کریں اور جو دوست کبھی سفر میں جاسکیں یا جن دوستوں کو توفیق ملے اور ان کو قانون اجازت دیتا ہو وہاں Settle ہونے کی وہ بھی