خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 608

خطبات طاہر جلد۵ 608 خطبه جمعه ۱۹ ر ستمبر ۱۹۸۶ء دفعہ سینکڑوں سال میں بعض دفعہ ہزاروں سال میں بالکل نظریات کی کایا پلٹ دیتے ہیں ان تصورات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ باقی رہنے والی چیزیں نہیں ہیں۔فخر کی چیز تو وہی ہوسکتی ہے جو باقی رہنے والی ہو۔یہ تو عارضی واقعات ہیں عارضی رونما ہونے والے عوارض ہیں ان سے بڑھ کر ان کی کوئی حیثیت نہیں۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔وَ لَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی نہ کیا کرو، طعنے نہ دیا کرو۔لمز کا مطلب ہے طعن کرنا کسی کو کاٹنا زبان سے، چر کے پہنچانا ، دکھ پہنچانے کی خاطر بات کرنا۔لَا تَلْمِزُوا تم ایک دوسرے کو دکھ پہنچانے والی باتیں نہ کیا کرو۔وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ اور نام اس خاطر نہ رکھا کرو کہ ناموں کے ذریعہ کسی کی تحقیر ہو اور یہ جو بیماریاں ہیں یہ بھی قوموں میں بھی پائی جاتی ہیں اور افراد میں بھی پائی جاتی ہیں ، عالمی سطح پر بھی پائی جاتی ہیں اور معاشرتی سطح پر پائی جاتی ہیں۔بعض لوگ بعض قوموں کے نام رکھتے ہیں یہ بتانے کی خاطر کہ یہ ذلیل و ادنیٰ لوگ ہیں۔چنانچہ نیگر (Nigger) جب حبشی کو کہا جاتا ہے، سیاہ فارم قوموں کو تو نیگر (Nigger) کا لقب بھی تکلیف دینے کی خاطر ہے۔اور جب امریکہ یا کینیڈا میں ”پیکی (Paki) کہتے ہیں کسی کو یعنی پاکستانی تو ایک بڑی شدید گالی سجھی جاتی ہے۔یعنی بدقسمتی سے پاکستانیوں کا وہاں کردار ایسا رہا ہے یا کوئی اور وجو ہات پیدا ہوئی ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ایک سفید فام قوم نے ہماری قوم کا نام پیکی (Paki) رکھ دیا ہے اور یہ بھی تَنابَزُوا بِالْأَلْقَابِ کی ایک ذلیل مثال ہے۔نیچے سکھوں کو بھی پیکی (Paki) کہتے ہیں۔جو بے ہودہ کام کر رہے ہوں ہندو ہوں تب بھی ان کو پیکی کہیں گے۔کسی اور قوم سے تعلق رکھتے ہوں برائی کی نشانی پیکی بن گئی ہے۔گویا نعوذ باللہ پاکستانی ہر برائی کا مرجع اور منبع ہے، ہر برائی اسی سے پھوٹتی اور اسی میں لوٹ کر آتی ہے اور انفرادی طور پر غلط نام رکھنے یہ تو عام رواج ہمارے ملک میں پایا جاتا ہے۔سکولوں میں تو یہاں تک رواج تھا کہ ہر استاد کا ایک ایک نام رکھا ہوتا تھا اور اصل نام سے بعض لوگ استادوں کو جانتے ہی نہیں تھے اس برے نام سے جانتے تھے اور یہاں تک کہ کئی سال گزرنے کے بعد ایک نسل بوڑھی ہوگئی تب بھی استاد کا اصل نام تو یاد نہیں رہا ، یہ لقب یا درہ گیا کہ فلاں صاحب یہ تھے اور فلاں صاحب یہ تھے۔تو یہ معاشرہ کی برائیاں ہیں جن