خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد۵ 581 خطبه جمعه ۲۹ / اگست ۱۹۸۶ء نے ایک نصب العین مقررفرمایا ہے اور اے محمد مصطفے کے غلامو! تمہارے لئے ہم یہ نصب العین مقرر کرتے ہیں۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ ہر نیکی میں ہر دوسرے سے آگے نکل جاؤ۔پس یہ کیسے ممکن ہے کہ امت کو تو خدا یہ حکم دیتا ہو کہ ہر نیکی میں ہر دوسری امت کے ہر فرد سے آگے نکل جاؤ اور محمد مصطفی عمل ہے جو امت کے سردار ہیں ان کو یہ حکم دے کہ تم غیروں سے گزشتہ انبیاء سے صبر کے گر سیکھو پس ہرگز یہ مفہوم نہیں لیا جاسکتا کیونکہ قرآن کریم کی کھلی تعلیم کے مخالف ہے۔مراد یہ ہے کہ اس طرح صبر کر کے دکھاؤ مگر آگے بڑھ کر دکھاؤ جس طرح ان سب نے صبر کیا تم اکیلے اس سارے صبر کو اپنی جان میں سمیٹ لو اور اس میں نئی جلا پیدا کر دو۔پس آنحضرت علﷺ کی امت کہلاتے ہوئے اور حقیقت میں آپ کی امت ہوتے ہوئے ہمیں یہ دیکھ دیکھنے تھے اور ہمارے مقدر میں تھا اور ہمارا فرض ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی عملے نے جس طرح مسلسل صبر کیا اور انتہائی دکھ اٹھا کر بھی صبر کیا اسی طرح ہم صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور آنحضرت علی کی طرح اولوا العزمی کی شاہراہ پر آگے سے آگے قدم بڑھاتے چلے جائیں۔اگر ہم ایسا کریں گے اور یقیناً ہم ایسا کریں گے۔اس لئے کہ ہم ایسا کر رہے ہیں اور آج بھی ہم صبر کی دنیا میں نئے ابواب کھول رہے ہیں، صبر کا تاریخ میں نئے روشن بابوں کا اضافہ کر رہے ہیں۔تو پھر یقین رکھیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو صبر کا بے انتہا شیریں پھل عطا فرمایا، جماعت احمدیہ کو بھی آنحضرت ﷺ کی غلامی کی برکت سے ویسا ہی پھل عطا فرمائے گا۔اور کبھی آپ کے صبر کو ضائع نہیں ہونے دے گا۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقع پر فرمایا تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے بادل آفات ومصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو (کلام محمود صفحه: ۱۵۴) پہلے بھی ایسے دور گزرے ہیں بھیانک گوشدت میں اس سے کم تھے مگر بہر حال گزرتے رہے اور پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ ان خوفناک بادلوں سے جو خون برسانے والے تھے بالآ خر رحمت کے قطرے برسنے لگے اور پھر وہ موسلا دھار رحمت کی بارشوں میں تبدیل ہو گئے۔یہ بادل جو بھیانک