خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 565
خطبات طاہر جلد۵ 565 خطبه جمعه ۲۲ را گست ۱۹۸۶ء محروم نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ اللہ کا نام لیں اور خدا کی توحید کے گن گائیں ، ان کو زبر دستی آنحضرت علی کے انکار پر اس طرح مجبور نہیں کیا جاتا تھا کہ اگر انکار نہیں کرو گے تو تمہیں گلیوں میں گھسیٹا جائے گا اور مارا جائے گا اور قید خانوں میں پہنچایا جائے گا۔پس پاکستان میں چلائی جانے والی وہابی علماء کی شدھی کی تحریک ان تمام نقوش میں، ان تمام تفاصیل میں ہندوؤں کی چلائی جانے والی اس تحریک سے بھی زیادہ بھیانک ہے اور آج کی چلائی جانے والی تحریک سے بھی زیادہ بھیا نک ہے۔چنانچہ مردان میں ہونے والا جو واقعہ ہے وہ اس بات کا مظہر ہے کہ ہمیں پاکستان کی سرزمین میں کسی قسم کی شدھی کی تحریک کا مقابلہ کرنا ہے۔مردان میں عید کے دن جب مردان کی عید کی نماز مرد، عورتیں اور بچے عید پڑھ کر فارغ ہوئے ہی تھے پیشتر اس کے کہ ان میں سے کوئی باہر جاتا پولیس اور وہابی مولوی اور ان کے شاگرد چیلے چانٹے قریباً دو تین سو کی تعداد میں مسجد پر حملہ آور ہوئے اور پولیس نے اندر داخل ہو کر پہلے تو یہ اعلان کیا کہ آپ کے چار ایسے رہنما ہیں یعنی جماعت میں سر کردہ دوست ایسے ہیں جن کو ہم گرفتار کریں گے۔وہ سازش بڑی بھیانک تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ اس کے بعض ایسے حصوں کو پورا نہیں ہونے دیا جن کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب ان کو قید کرنے کی کوشش کی گئی تو تمام موجود احمدی مردوں ، عورتوں اور بچوں نے یہ اصرار کیا کہ ان کو تم اگر قید کرو گے تو ہم سب کو ساتھ قید کر کے لے جانا پڑے گا ہم اکیلے نہیں جانے دیں گے۔چنانچہ کوئٹہ میں جس غیرت کا مظاہرہ کیا تھا جماعت نے اسی قسم کی غیرت کا مظاہرہ مردان میں بھی کیا اور خود طوعی طور پر ساری کی ساری جماعت پولیس کی حراست میں پہنچ گئی اور حوالات میں داخل کر دی گئی۔عورتیں بھی ، بچے بھی ، مرد بھی یہ سارے عید کے دن ، یہ ان کی عید منائی جارہی تھی اور اس کے بعد پولیس کے سمیت وہ ملاں جو حملہ آور ہوئے تھے پولیس کی معیت میں اور اسکی حفاظت میں انہوں نے پولیس سمیت مسجد کو منہدم کرنا شروع کیا۔منہدم کرنے سے پہلے انہوں نے یہ دیکھ لیا کہ وہ قالین جو احمدیوں کی عبادتوں سے ناپاک ہوئے ہوئے ہیں ان کو تو بہر حال اپنی مسجدوں میں لے جا کر پاک کرنا چاہئے۔وہ پنکھے جو ان کو ہوا دے دے کر گندے ہوئے ہوئے ہیں ان کو اپنی مساجد میں یا اپنے گھروں میں لگا کر مقدس بنانا چاہئے اور ہر قیمتی چیز جو مسجد میں موجود ہے اس کا گند دور کرنا چاہئے۔چنانچہ انہوں نے یہ ساری چیزیں سمیٹیں اور جس کا داؤ چلا جو چیز