خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 506
خطبات طاہر جلد۵ 506 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء الله آنحضرت ﷺ کو دکھ پہنچانے کا ذکر ہے وہاں اس بات کا ذکر ہی نہیں فرمایا کہ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا کیونکہ ناممکن ہے کہ رسول سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو جس کے نتیجہ میں کسی فرد بشر کے لئے یہ جائز ہو جائے کہ وہ اس کو تکلیف پہنچائے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا خصوصاً حضور اکرم ہے جو رحمت للعالمین تھے ان کے متعلق اشارۃ یہ ذکر کرنا بھی ان کی شان کے خلاف ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو۔ہاں مومنوں سے ایسا ممکن ہے فرمایا کہ اگر مومنوں سے تمہیں تکلیف پہنچے تو میں ان کی ناجائز حمایت نہیں کروں گا۔کیسا عظیم الشان انصاف کا تصور پیش فرمایا جار ہا ہے ،کوئی انصاف کے معاملہ میں مذہبی تفریق نہیں ہے۔فرمایا اگر تم دکھ دو گے مومنوں کو تو میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ مومنوں کی غلطی کی وجہ سے تو تمہیں تکلیف نہیں پہنچی اور اس کے نتیجہ میں تو کوئی دکھ نہیں پہنچایا جارہا۔اگر ایسا ہوگا تو میں ان کا ضامن نہیں ہوں لیکن اگر بغیر جرم کے بغیر ارتکاب جرم کے تم نے ان کو کوئی تکلیف پہنچائی تو میں ان کا ولی ہوں اور لازما میں تم سے ان کا انتقام لوں گا۔ی تعلیم ہے اور اس سارے عرصہ میں کہیں بھی بندوں کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ایسے موقع پر تم فرمانروائی کے اختیار اپنے ہاتھ میں لے لو اور خود میری طرف سے ایسے لوگوں کو سزائیں دینی شروع کرو۔پھر فرمایا: وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنَّ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوْا مِنْكُمْ ۖ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يَحْلِفُوْنَ بِاللهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللهُ وَرَسُولُةَ اَحَقُّ اَنْ تُرْضَوْهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِيْنَ أَلَمْ يَعْلَمُوا اَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللهَ وَرَسُولَهُ فَاَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْى الْعَظِيمُ۔(التوبہ: ۶۳۶۱) فرماتا ہے وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنَّ اس آیت میں ان اعتراض کرنے والے اور آنحضرت ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کو جو آپ کے دور میں زندہ وجود تھے جن کا صحابہ کوعلم تھا، ان کی نشاندہی مزید فرما دی۔گویا کہ اب یہ ابہام نہیں رہا کہ وہ کون لوگ