خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 503
خطبات طاہر جلد۵ 503 خطبہ جمعہ ۱۸؍ جولائی ۱۹۸۶ء یہی وجہ ہے کہ قادیان میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔اس زمانہ میں ہندو اکثریت کے علاقوں میں جہاں صرف یہی نہیں کہ ہندو اکثریت میں تھے بلکہ عیسائی راج ہونے کی وجہ سے عیسائیوں کی بھی زبانیں کھلی ہوئی تھیں ، سکھ بھی بعض علاقوں میں بڑے متشدد تھے اور وہ ان محدود علاقوں میں مسلمانوں پر غالب اکثریت بھی رکھتے تھے۔بعض علاقوں میں بدھ غالب تھے، بعض علاقوں میں اور دیگر مذاہب کے لوگ غالب تھے۔جس طرح چاہتے وہ اسلام کی ہتک کرتے اور رسول اسلام کے خلاف گستاخی سے پیش آتے تھے اور کتاب اللہ کی بے عزتی سے بھی نہیں چوکتے تھے اور اسلام کے خدا کا بھی تمسخر اڑاتے تھے۔جماعت احمدیہ کو چونکہ اللہ اور رسول اور کتاب اور ملائکہ اور ان سب مقدس باتوں سے حقیقی پیار تھا جو ہمارے ایمان کا جزو ہیں اس لئے وہی ترکیب سوجھی جماعت احمدیہ کے خلیفہ کو جو قرآن نے سکھائی تھی ، وہی اصول تھا جو قرآن سے لیا اور اس کی روشنی میں ایک لائحہ عمل طے کیا گیا اور تمام ہندوستان میں بانیان مذاہب کی عزت کا دن منایا جانے لگا۔مسلمان دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی تعریف کرتے تھے اور دوسرے مذاہب کے بزرگ مسلمان بزرگوں کی تعریف کرتے تھے اور ایسا لطف آتا تھا کبھی عیسائی کے منہ سے کبھی ہندو کے منہ سے کبھی سکھ کے منہ سے حضرت اقدس محمد مصطفی یا اے کا سیرت کا کلام سن کر روح وجد میں آجاتی تھی اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آپ نے آنحضرت علی کی سیرت کے گن گانے ہیں ہم حضرت کرشن کے حسن اخلاق پر روشنی ڈالیں گے یا حضرت بابا گرو نانک کی اعلیٰ سیرت بیان کریں گے تو پھر وہ لوگ محنت کرتے تھے ، توجہ سے ،غور سے سیرت کا مطالعہ بھی کرتے تھے اور اس زمانہ میں ان جلسوں کی جو روئیداد موجود ہے، پڑھ کر دل درود بھیجتا ہے حضرت محمد مصطفی ﷺ پر کہ کیسی عظیم کتاب آپ کو اللہ نے عطا فرمائی اس کتاب کی روشنی ہی میں یہ ساری روشنی جماعت احمدیہ کو دنیا میں پھیلانے کی توفیق مل رہی ہے۔نہایت ہی پیارا ماحول تھا امن اور آشتی کا اور محبت کا۔ہماری نظر تو اس بات پر رہتی تھی کہ کب کوئی غیر حضوراکرم ﷺ کی تعریف کرے۔یہ دن بھی آج دیکھنے پڑے ہیں کہ جو محبت کرنے والے ہیں ان کے منہ سے بھی تعریف لوگوں کو تکلیف دینے لگی ہے۔عجیب عشق ہے یہ کہ عشق کے سارے پیمانے الٹ دیئے گئے ہیں، عشق کے سارے اسلوب بدل دیئے گئے ہیں۔اب تو عشق کے تقاضے ان لوگوں کے یہ رہ گئے ہیں کہ جس