خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 456

خطبات طاہر جلد۵ 456 خطبہ جمعہ ۲۷ / جون ۱۹۸۶ء نو جوان بھی ہیں بیچارے دماغ کے لحاظ سے وہ معذور ہیں لیکن جلسے کے ایام میں مشاورت کے دنوں میں بعض دفعہ ساری ساری رات پھرتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ساری ذمہ داری نظام جماعت کی حفاظت کی اور شرارت سے بچانے کی انہیں کے اوپر آپڑی ہے۔ایک دنیا دار ان کو دیکھتا ہے تو اس کو تو شاید اس پرندے کی مثال یاد آ جاتی ہوگی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ٹانگیں آسمان کی طرف کر کے سوتا ہے پنجابی میں ہم اسے ٹیٹری کہتے تھے پتہ نہیں یہاں اس کا کیا نام لیا جاتا ہے یا اردو میں کیا نام ہے لیکن ٹیٹری ایک پرندہ ہے۔جو ہمیشہ ٹانگیں آسمان کی طرف کر کے سوتا ہے۔کہتے ہیں کسی نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے تم آسمان کی طرف ٹانگیں کر کے کیوں سوتے ہو۔اس نے جواب دیا کہ مجھے خطرہ ہے آسمان گر کر دنیا کو تباہ نہ کر دے۔اس لئے اگر میرے سوتے ہوئے بھی گرا تو میں اپنی ٹانگوں پر لے لوں گا اس کو۔اب کیا وہ ٹیری اور کیا اس کی ٹانگیں اور کیا آسمان کا گرنا اور دنیا کو اس سے بچانا جانا لیکن ایسے ایسے بیچارے کمزور اور نا تو ان احمدی بھی آپ کو نظر آئیں گے جو اسی ٹیٹری کی طرح ساری دنیا کا بوجھ اپنے دل پر لئے یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے حفاظت کرنی ہے۔اب دنیا کی نظر میں تو واقعی ان کی مثال ایک ٹیری کی سی ہوگی لیکن خدا کی نظر میں ان کا اور معاملہ ہوتا ہے، خدا کی نظر میں ان کے مراتب اور قسم کے ہوتے ہیں۔بسا اوقات ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انہیں کے تقویٰ اور انہیں کی نیکیوں کی وجہ سے آسمان گرنے سے روکا جاتا ہے اور زمین والوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔نیکی اور تقویٰ کے معاملات دنیا کے معاملات سے بالکل مختلف ہیں۔پس ان کی بیدار مغزی فائدہ پہنچائے یا نہ پہنچائے۔ان کا اخلاص، ان کی خلوص نیت ، ان کی محبت ، ان کی فدائیت ، ان کا ہر دم، سب کچھ تن من دھن ، خدا کی جماعت کے لئے قربان کر دینے کی نیت اور فیصلہ ، یہ جب درگاہ الہی میں قبول ہو جاتے ہیں تو پھر ان کو بڑی عظمتیں عطا ہوتی ہیں اور ان کی یہ کوششیں بے کار اور رائیگاں نہیں جاتیں اور ان حفاظتوں میں جو زمینی کوششیں ہیں ان میں آسمان کی کوششیں داخل ہو جاتی ہے۔پس کون کہہ سکتا ہے آج کہ میرے اس اعلان میں کو ئی مبالغہ تھا یا ہوسکتا ہے کہ اس پہلو سے جماعت احمدیہ کے سوا دنیا کے پردے پر آپ کو اور کوئی جماعت نظر نہیں آئے گی۔ایک اور صرف ایک جماعت ہے جس کے افراد ایسی روح رکھتے ہیں، ایسے جذ بے رکھتے ہیں۔پس آپ میں سے ہر ایک اسی طرح نگران ہو جائے حفاظت کا، اسی طرح بیدار مغزی سے جائزے لے۔اپنے دائیں اور بائیں