خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 436
خطبات طاہر جلد۵ 436 خطبه جمعه ۲۰ / جون ۱۹۸۶ء پہلو زندہ رہتا ہے اور باقی رہتا ہے اور ہمیشہ ہمیش کے لئے اس کی آن بان اور چمک میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔آج آپ جن نگاہوں سے سعادتوں کو دیکھ رہے ہیں۔کل کے آنے والے جب ان کو دیکھیں گے تو ان کو پہلے سے زیادہ چمک دار پائیں گے اور دین کی راہ میں پائی جانے والی سعادتیں، ملنے والی سعادتیں یہ خصوصیت اپنے اندر رکھتی ہیں کہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ نہ صرف یہ کہ ان کی چمک دمک میں اضافہ ہوتا رہتا ہے بلکہ زیادہ وسیع علاقوں میں ان کا نور دکھائی دینے لگتا ہے اور دیکھنے والوں کی نظروں میں بھی وسعت ہوتی چلی جاتی ہے اور ان روحانی سعادتوں کے لئے احترام اور عقیدت میں بھی گہرائی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔لہذا یہ وہ سعادت ہے جس کی میں خبر آپ کو دینا چاہتا ہوں جو ایک امر، نہ مرنے والی نہ مٹنے والی سعادت ہے۔لیکن اس کے باوجود مومن سچائی کو پسند کرتا ہے اور تصنع سے پاک ہوتا ہے اس لئے یہ کہنے میں بھی میں باک محسوس نہیں کرتا کہ اس خبر کے ساتھ جب میں نے سنا تو مجھے بھی دکھ پہنچا۔جب آپ سنیں گے تو آپ کو بھی دکھ پہنچے گا اور اس کے دکھ والے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ایک اور پہلو سے یہ شہادت جس کا میں ذکر کرنے والا ہوں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہی ہے، ایک نیا سنگ میل رکھ رہی ہے اس دور کی قربانیوں میں کیونکہ خواتین میں سے یہ پہلی ہیں جنہیں اس دور میں اللہ کی خاطر جان دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ان کا نام رخسانہ تھا۔ان کے خاوند طارق تو احمدی تھے لیکن ان کے بھائی بشارت احمدی نہیں۔یہ خاندان اس طرح بٹا ہوا ہے کہ آدھے بھائی تقریباً احمدی اور آدھے غیر احمدی۔مردان میں یہ لوگ تجارت کرتے ہیں اگر چہ پٹھان نہیں اور پنجابی ہیں۔سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا خاندان ہے جو سر گودھا میں بھی آباد ہے اور گویا دونوں ضلعوں کا واسطہ ہے اس خاندان سے یعنی دونوں ضلعوں کے ساتھ اس خاندان کا تعلق قائم ہے۔لڑکی کے والد مرزا خان صاحب سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں ان دنوں رہائش پذیر ہیں۔طارق جو احمدی ہیں، مخلص احمدی ہیں ان کا بھائی بشارت علماء کی بد کلامی کے نتیجہ میں دن بدن زیادہ بد گو ہوتا چلا گیا اور اخلاقی جرات کا یہ حال تھا کہ بھائی کے سامنے تو زبان نہیں کھول سکتا تھا لیکن اپنی مظلومہ بھابھی کے سامنے دل کھول کر دل کا غبار نکالتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دیتا تھا اور ہر قتم کی بد کلامی سے کام لیتا تھا اور مردانگی کا عالم یہ ہے کہ بھائی کو تو عبادت سے نہیں روک سکتا تھا لیکن اس