خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 270
خطبات طاہر جلد۵ 270 خطبه جمعه ۴ را پریل ۱۹۸۶ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے اور حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ دیا ہے۔اس کے علاوہ اولیا نے بھی کہا ہے کہ خدا کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والوں اور خدا کی خاطر قربانی کرنے والوں کی سات نسلیں تک بھوکی نہیں مرتیں۔( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۴۴۴) اتنا لمبا برکت کا اثر ان پر چلتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بھی اپنی جماعت کے ساتھ یہی وعدے ہیں جو خدا نے آپ کو دیئے تھے۔اس لئے بے خوف ہو کر ان مالی قربانی کی راہوں میں آگے بڑھیں۔دیتے وقت بھی اپنے تقویٰ کے معیار بلند کریں اور خرچ کرتے وقت بھی اپنے تقویٰ کے معیار بلند کریں۔اللہ تعالیٰ کی لامتناہی ، نہ ختم ہونی والی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: پاکستان میں جو نئی رو چلی ہے مظالم کی وہ اسی طرح جاری ہے اور خصوصیت کے ساتھ جو جماعت کے جوسر کر دہ خدمت کرنے والے ہیں ان کو تکلیف پہنچانے کے لئے حکومت با قاعدہ کوشش کر رہی ہے۔چنانچہ ابھی کل ہی پتہ چلا ہے کہ ہمارے امیر ضلع سیالکوٹ چوہدری محمد اعظم صاحب جن کے لئے قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کی گئی تھی۔ان کی ضمانت حکومت نے منسوخ کروا کر پھر ان کو وہیں کورٹ سے زنجیریں پہنا کر قید خانے پہنچا دیا ہے اور خوشاب کے امیر ضلع کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا تھا اور بھی ان کی نظر ہے کہ جماعت کے جہاں جہاں اچھے نمایاں کارندے ہیں ان کے اوپر ہاتھ ڈالا جائے بڑی بے وقوفی ہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت کے جتنے بڑے لوگ ہیں یعنی دنیا کی نظر میں جو بڑے کہلاتے ہیں اور خدمت کے لحاظ سے بھی وہ واقعی بڑے بھی ہیں، ان پر ہاتھ ڈالیں گے جماعت کا دل بیٹھ جائے گا۔یہ انتہائی بیوقوفوں والا اندازہ ہے۔جہاں بھی جماعت کے بڑے لوگ تو چھوڑ کے چھوٹے لوگوں پر بھی ہاتھ ڈالا جاتا ہے جماعت کا دل پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ہر تکلیف کے نتیجے میں ہزار ہا لوگ عزم کرتے ہیں کہ ہم خدا کی خاطر یہ تکلیف اٹھائیں گے ، کاش ہم ہوتے تو ہم اٹھاتے۔اب ضلع سیالکوٹ میں آپ دیکھیں گے انشاء اللہ ایک نئی زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اور میں اندازہ کر رہا ہوں ابھی سے کہ کس قدر وہاں جوش پیدا ہو چکا ہوگا۔مجھے خط تو نہیں ملنے شروع ہوئے لیکن آنے شروع ہو جائیں گے۔اور وہ گاؤں جو سور ہے تھے بڑی دیر سے، جو غفلت کا شکار تھے شیروں کی طرح اٹھیں گے اب انشاء اللہ۔ہر ایک ان میں سے کہے گا کہ، ہمارا امیر