خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد۵ 202 خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۸۶ء بجائے اور بھی زیادہ مضبوط کر دیا ہے، اگر ہم پہلے لوہا تھے تو اب فولاد بن گئے ہیں ، اگر پہلے سونا تھے تو اب کندن بن کے نکل رہے ہیں۔آپ نے جس حالت میں ہمیں چھوڑا تھا جب واپس آئیں گے تو انشاء اللہ اس سے بہت بہتر حالت میں نہیں پائیں گے۔کبھی اتنی قربانی کی تمنا ہمارے دلوں میں پیدا نہیں ہوئی تھی، کبھی قربانی کے لئے اتنا عزم دلوں میں نہیں پیدا ہوا تھا، کبھی قدموں میں ایسا ثبات ہم نے نہیں دیکھا تھا جیسا کہ اب اس دور میں ہمیں نصیب ہوا ہے اور جتنا ظلم میں دشمن بڑھتا چلا جا رہا ہے اتنا اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ ہمارے دلوں کو ڈھارس دیتا چلا جارہا ہے اور ہمارے ارادوں کو بلند تر کرتا چلا جا رہا ہے، ہمارے قدموں کو مضبوط تر کرتا چلا جارہا ہے۔اپنے اپنے رنگ میں ٹوٹی پھوٹی زبان میں کوئی شستہ زبان میں ہر احمدی یہ کوشش کر رہا ہے کہ خطوں کے ذریعہ مجھے ڈھارس دے اور مجھے تسلی دے کہ آپ ہماری فکر نہ کریں۔یہ وہ نظارے ہیں جو آسمان کی آنکھ کم دیکھا کرتی ہے۔اس پہلو کی طرف بھی نظر کریں۔مرنے والے تو روز مرتے ہی چلے جاتے ہیں کوئی موٹر کے حادثے میں مرجاتا ہے، کوئی سائیکل سے گرتا ہے تو مر جاتا ہے، کسی کو ویسے گھر میں دہلیز پر ٹھوکر لگ جاتی ہے تو مر جاتا ہے، کوئی دھماکے سن کے مرجاتے ہیں، کوئی ہیضے کا شکار ہو جاتے ہیں، کوئی اپنے ہاتھوں بدنظمی کے نتیجے میں مارے جاتے ہیں۔ہزار قسم کی موتیں ہیں کہیں کینسر ہے، کہیں اور بیماریاں ہیں، لمبی تکلیف دہ موتیں ہیں اور روزمرہ کا یہ سلسلہ ہے۔کروڑوں انسان مر رہے ہیں لیکن اُن کروڑوں انسانوں کی موت پر آسمان میں کوئی جنبش نہیں ہوتی۔وہ چند خوش نصیب جن کو ایسی موت نصیب ہو کہ آسمان لرز اٹھے ان کی موت سے اور ملائکہ ان پر درود بھیجنے لگیں یہ موتیں قابل رحم موتیں نہیں یہ تو قابل رشک موتیں ہیں اور جماعت احمد یہ اس مضمون کو خوب سمجھ رہی ہے اس لئے جماعت احمدیہ کوکسی طرح بے دل کرنا یا مایوس کر دینا یا اپنے بلند ارادوں سے باز رکھنا یہ اب جماعت احمدیہ کے دشمن کے بس میں ہی نہیں ہے۔وہ کوتاہ ہے اس کی باز وکوتاہ ہیں، اُس کا تصور کو تاہ ہے، پست قامت ہے وہ اپنے حوصلے میں، اپنے مرتبے اور اپنے مقام میں ، اُس کا تصور بھی ان قدموں کو نہیں چھو سکتا جو جماعت احمدیہ کے عزائم کے قدم ہیں، کجا یہ کہ وہ ان بلندیوں کو حاصل کرے جن سے جماعت احمدیہ کے عزم کے سر باتیں کر رہے ہیں۔اس لئے جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میں یہ باتیں اس لئے بیان نہیں کر رہا کہ