خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد۵ 170 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۸۶ء دعاؤں میں التزام اختیار کرو کیونکہ قرآن کریم کی ایک آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لکھتے ہیں۔” جو مانگتا ہے اس کو ضرور دیا جاتا ہے اسی لئے میں کہتا ہوں کہ دعا جیسی کوئی چیز نہیں دنیا میں دیکھو کہ بعض خر گدا ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر روز شور ڈالتے رہتے ہیں ان کو آخر کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو قادر اور کریم ہے جب یہ اڑ کر دعا کرتا ہے یعنی بندہ تو پالیتا ہے۔کیا خدا انسان جیسا بھی نہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحه: ۶۰۲) پھر آپ فرماتے ہیں : آج اس موقعہ کے اثنا میں جبکہ یہ عاجز بغرض تصحیح کا پی کو دیکھ رہا تھا بعالم کشف چند ورق ہاتھ میں دیئے گئے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ فتح کا نقارہ بجے پھر ایک نے مسکرا کر ان ورقوں کی دوسری طرف ایک تصویر دکھلائی اور کہا کہ دیکھو کیا کہتی ہے تصویر تمہاری۔جب اس عاجز نے دیکھا تو اس عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رعب ناک جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین و یسار میں حجة الله القادر و سلطان احمد مختار لکھا تھا۔(تذکرہ صفحہ :(۸۸) پھر آپ فرماتے ہیں، آپ کو اللہ تعالیٰ نے بطور وحی کچھ اسماء عطا فرمائے ، کچھ لقب دیئے ان میں سے ایک یہ تھا عبد القادر رضی الله عنه۔ارى رضوانه الله اکبر ،اسکی تفسیر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ” خدا کچھ اپنی قدرتیں میرے واسطہ ظاہر کرنے والا ہے، اس واسطہ میرا نام عبدالقادر رکھا۔رضوان کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ کوئی فعل دنیا میں خدا کی طرف سے ایسا ظاہر ہونے والا ہے جس سے ثابت ہو جائے اور دنیا پر روشن ہو جائے کہ خدا مجھ پر راضی ہے۔“