خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 2

خطبات طاہر جلدم خطبه جمعه ۴ /جنوری ۱۹۸۵ء آیت ۱۰۹ تا الا ان میں اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کے تقوی پر اپنے کاموں کی بنیادیں استوار کرتے ہیں، جن کی تمام عمارات ، جن کے تمام منصوبے جن کے سارے کاروبار اللہ کے تقویٰ کی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں اور خدا کی رضا سے طاقت حاصل کر کے آگے بڑھتے ہیں کیا ایسے شخص بہتر ہیں یا وہ جن کی بنیادیں ایک ایسے کمزور کنارے پر ، ریت کے کنارے پر قائم کی گئی ہوں جو آگ کا کنارہ ہو۔پس وہ ایسے کنارے پر قائم کردہ بنیا د میں اپنے اوپر قائم کرنے والی عمارتوں سمیت اور ان کے مکینوں سمیت ان کو لے کر جہنم میں جا پڑتی ہیں۔وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ اور اللہ تعالی ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔یہاں خدا تعالیٰ نے اَشَسَ بُنْيَانَهُ عَلَى تَقْوٰی نہیں فرمایا بلکہ تَقْوَى مِنَ اللَّهِ وَ رِضْوَانٍ فرمایا ہے جو عام قرآنی اسلوب سے ایک مختلف اسلوب ہے اور اس میں ایک بڑی گہری حکمت ہے۔یہاں مراد یہ نہیں ہے کہ انسان اس تقویٰ پر بنیا دیں قائم کرتا ہے جو تقوی کسی حد تک اس کے اختیار اور بس میں ہے بلکہ یہاں ایک خوشخبری کے رنگ میں مومنوں کا نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ عَلَى تَقْوَى مِنَ اللہ انکی عمارتیں ایسے تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو عطا ہوتا ہے یعنی انسان کی طرف سے اُس میں کسب کا کوئی اتنا حصہ نہیں ہوتا جتنا خدا تعالی کی عطا اور رحمت کا حصہ ہوتا ہے۔اس مضمون پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ قوموں پر دو قسم کے حالات آتے ہیں ایک وہ جس میں تقویٰ محنت اور کسب سے کمایا جاتا ہے اور ایک وہ حالات جبکہ خدا کے فضل کی طرح خدا کی رحمت کی بارش کی طرح تقومی آسمان سے برستا ہے۔جماعت احمد یہ اس وقت ایسے ہی دور میں داخل ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے احسانات کے جو کرشمے ہم دیکھ رہے ہیں، جو نیکیاں دلوں کو عطا ہو رہی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضوان کی محبت دلوں میں بڑھ رہی ہے، جو عبادات کا ذوق وشوق پیدا ہورہا ہے، جو حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں جماعت میں اس میں جماعت کے کسب کا کوئی حصہ نہیں، کسی انتظامی کوشش یا جدو جہد کا کوئی حصہ نہیں یہ تقویٰ من اللہ ہی ہے، خالصہ آسمان سے خدا کے فرشتے وہ تقوی قلوب پر نازل فرمارہے ہیں جس کے نتیجہ میں خدا تعالی نئی نئی عظیم الشان عمارتوں کی خوشخبری دے رہا ہے۔ایسے عظیم الشان کاموں کی بنیادیں قائم کر رہا ہے اس تقویٰ کے اوپر جس کے