خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 882 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 882

خطبات طاہر جلدم 882 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۸۵ء امر واقعہ یہ ہے کہ ان بدلے ہوئے حالات نے بہت سی اصلاح خود بخود کی ہے اور غیر معمولی روحانی تربیتی تبدیلیاں واقعہ ہوئی ہیں اور جب ان تبدیلیوں کی طرف نظر پڑتی ہے تو دل خوش بھی ہوتا ہے لیکن محض اچھی چیزوں پر نگاہ رکھنا اور خوشیوں کے تصور میں مگن رہنا یہ حکیمانہ بات نہیں۔ذی شعور لوگ جہاں خوبیوں پر نظر رکھ کر ، اچھی باتوں کو دیکھ کر اپنے حوصلے بڑھاتے ہیں وہاں کمزوریوں پر بھی نگاہ ڈالتے جاتے ہیں تا کہ ایک مسلسل اصلاح کا سلسلہ بھی جاری رہے اور کمزوریاں خوبیوں میں تبدیل ہوتی رہیں۔پس جب بہت سی اطلاعیں خوش کن تبدیلیوں کی آتی ہیں تو ان کے نتیجہ میں کسی غلط نبی میں مبتلا نہیں ہوتا۔جب کہا جاتا ہے کہ بعض لوگ جنہوں نے پہلے کبھی نماز نہیں پڑھی تھی وہ نمازی بن گئے ، جب یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ بعض لوگ جن کو نماز میں مزہ نہیں آتا تھا ان کو مزہ آنے لگ گیا ، جب بتایا جاتا ہے کہ بعض لوگ جن کی نمازیں ذکر الہی سے محض نام سے بھری ہوئی تھیں عملاً ذکر سے خالی تھیں مگر اب کیفیت یہ ہے کہ ذکر کے لطف ایسے آنے لگے ہیں کہ نماز کے بعد بھی وہ ذکر چلتا رہتا ہے۔تو بہت دل کو مسرت پہنچتی ہے، بہت اطمینان نصیب ہوتا ہے مگر میں اس دھو کے میں مبتلا نہیں ہوتا کہ جماعت کی اکثریت میں یہ نمایاں تبدیلی واقع ہو چکی ہے۔اتنے بڑے خلا ہیں ہمارے اندر تربیت کے اور جس سوسائٹی سے ہم نکل کر احمدی بن رہے ہیں ان کے ساتھ ہماری تربیت کا ایک گہرا تعلق ہے جو ٹوٹ نہیں سکتا۔ان کے اندر اتنی کمزوریاں واقع ہو چکی ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ اس سوسائٹی سے نکل کر اچانک ایک ایسا عجیب انقلاب آجائے کہ کلیہ ایک مختلف نوع کی بالکل پاکیزہ روحانی سوسائٹی وجود میں آجائے۔اس لئے معاشرے کا ماحول کا ایک گہرا اثر پڑتا ہے۔اگر معاشرہ رشوت خور ہے ، اگر معاشرہ بے درد ہو چکا ہے، اگر معاشرہ نماز سے خالی ہو گیا ہے، اگر معاشرے میں خدا کا خوف نہیں رہا تو ہر روز ایسے لوگوں سے تعلق کے نتیجہ میں، واسطہ پڑنے کے نتیجہ میں تجارتوں کے نتیجہ میں ، لین دین کے نتیجہ میں ، ان محلوں میں رہنے کے نتیجہ میں، بعض بدیوں کو جو بظاہر حسن رکھتی ہیں ان کو دیکھنے کے نتیجہ میں لازماًوہ سوسائٹی جو تعداد کے لحاظ سے تھوڑی ہے وہ متاثر ہوتی چلی جاتی ہے۔اس لئے بھی اور کچھ اس لئے بھی کہ بہت سے احمدی بلکہ بھاری اکثریت کے لحاظ سے اس وقت پاکستان میں ایسے ہیں جن کے ماں باپ یا بعض صورتوں میں دادا اور بعض صورتوں میں پڑدادا