خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 804
خطبات طاہر جلدم 804 خطبه جمعه ۲۷/ ستمبر ۱۹۸۵ء جولوگ موجود تھے ان سب کا یہ تاثر تھا کہ ان کو صرف کوئی علمی دلچسپی نہیں تھی کچھ عرصہ کے بعد اسلام کے ساتھ گہری وابستگی نظر آنے لگ گئی تھی۔بڑی گہری دلچسپی قلبی تعلق کی صورت میں ظاہر ہورہی تھی۔یہ وہ باتیں ہیں جو مجھے مجبور کر رہی ہیں کہ بار بار جماعت کو توجہ دلاؤں کہ تبلیغ کا حق ادا کریں اور دیکھیں گے کہ انشاء اللہ تھوڑی سی کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں بہت سے پھل عطا فرمائے گا۔جرمنی میں ہی جن دوستوں کو خدا تعالیٰ نے بڑی بیعتیں کروانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ان میں سے بعض ایسے ہیں جن کو بالکل عربی نہیں آتی لیکن عربوں کی بیعتیں کروائی ہیں۔ترکی نہیں آتی لیکن ترکوں کی بیعتیں کروائی ہیں۔جس طرح بھی ان کی پیش جاتی ہے وہ اشاروں سے کچھ ٹوٹی پھوٹی جرمن زبان میں ، کچھ اور ذرائع کو اختیار کرتے ہوئے ایک دفعہ اس جذبے کے ساتھ ان تک پیغام پہنچاتے ہیں کہ پھر وہ لٹریچر لینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔کیسٹس تیار ہیں ان کو لینے دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور باقی پھر خدا تعالیٰ کے فرشتے خودان لوگوں کو سنبھال لیتے ہیں۔اس وقت جماعت بڑی تیزی کے ساتھ ہر زبان میں لٹریچر تیار کر رہی ہے۔انشاءاللہ تعالیٰ چند ماہ کے اندر اندر اور بھی بہت سالٹر پچر آپ کو ملے گا۔ٹیسٹس ہراہم زبان میں تیار ہورہی ہیں کچھ ہو چکی ہیں، مختلف زبانوں میں ویڈیو ریکارڈنگ تیار ہو رہی ہیں اور ہو چکی ہیں اور اگر کوئی احمدی کسی بھی ملک کے باشندے کو تبلیغ کرنا چاہے اب اس کے لئے یہ بہانہ نہیں ہے کہ مثلاً مجھے جاپانی نہیں آتی ، مجھے کو رین نہیں آتی ، مجھے اٹالین نہیں آتی ، مجھے یونانی نہیں آتی ان سب زبانوں میں اور اس کے علاوہ بہت سی اور زبانوں میں جہاں پہلے لٹریچر موجود نہیں تھا وہاں کچھ لٹریچر تیار ہو چکا ہے۔کچھ ہو رہا ہے، انشاء اللہ اور بھی ہوگا۔روسی زبان میں قرآن کریم اب آخری مکمل صورت میں پریس میں جا رہا ہے اور جو ساتھ چھوٹا سا منسلکہ تعارفی لٹریچر ہے وہ بھی تیار ہورہا ہے اس لئے میں جماعت کو بار بار توجہ دلاتا ہوں کہ اب آپ کا یہ عذر خدا کے حضور قابل قبول نہیں رہے گا کہ ہمیں زبانیں نہیں آتی تھیں، ہمیں علم نہیں تھا۔نہ زیادہ زبانوں کی ضرورت ہے، نہ زیادہ علم کی ضرورت ہے۔ضرورت ہے تقویٰ کی ، دعا کی لگن کی ، ایک جذبہ ہو اور انسان اپنا مقصد بنالے۔دھن کی طرح اس کے سر پر یہ سوار ہو جائے کہ جس طرح بھی ہو میں نے روحانی طور پر اللہ تعالیٰ سے اولا د لے کر چھوڑنی ہے۔چنانچہ جرمنی کے دورے میں میں نے دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے مجھے خاص طور پر دعا کے