خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 61

خطبات طاہر جلد۴ 61 خطبه جمعه ۲۵ جنوری ۱۹۸۵ء اوقات ایسا ہوتا ہے اور تم سے بھی ایسا ہوگا کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرتے ہو، تمہارے دل دکھتے ہیں، تمہیں تکلیف پہنچتی ہے ، مَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَلَا هَادِيَ لَہ جبکہ وہ تمہارے لئے خیر کا موجب ہوتی ہے۔تم بچوں کو کڑوی دوائیاں پلاتے ہو، ان کو ٹیکے کرواتے ہو، وہ چیختے چلاتے ہیں تم ان کے ہاتھ پکڑ لیتے ہو ، ان کی کوئی پیش نہیں جانے دیتے۔بچوں سے یہ سلوک اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس میں اُن کا فائدہ مضمر ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم بھی تمہارے لئے بعض دفعہ ایسی تدبیریں کریں گے کہ جن سے تمہیں انتہائی تکلیف پہنچے گی۔لیکن وہ تمہارے لئے فائدہ کا موجب ہوں گی۔چنانچہ جماعت احمدیہ کے متعلق پاکستان کی حکومت نے ساری دنیا میں جولٹریچر شائع کروایا ہے۔اس کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں جماعت کی طرف توجہ پیدا ہونی شروع ہوگئی ہے۔بعض لوگوں کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ دنیا میں جماعت احمد یہ بھی کوئی جماعت ہے۔اب ان تک یہ اطلاعات پہنچیں ، ساری دنیا کے اخباروں نے ان معاملات کا نوٹس لیا۔چنانچہ احمدیت اپنی شہرت کے لحاظ سے اور معروف ہونے کے اعتبار سے آج اس آرڈینینس کے جاری ہونے سے قبل کے وقت سے کم سے کم ہیں گنا زیادہ معروف ہو چکی ہے۔امریکہ بلکہ انگلستان میں بھی لوگوں کی بھاری اکثریت جماعت سے بالکل ناواقف تھی۔ظاہر ہے ایک دومشنز کے ذریعہ کروڑوں کی آبادی کو ہلایا تو نہیں جاسکتا، لوگ دلچسپی نہیں لیتے۔لیکن موجودہ مخالفت میں جماعت جن حالات سے گذری اور مصائب سے دو چار ہوئی اس کے نتیجہ میں ایک انسانی ہمدردی پیدا ہوئی اور اس ہمدردی کی وجہ سے جماعت کے معاملہ میں دلچسپی پیدا ہوئی۔لوگوں نے جماعت کے لٹریچر کو پڑھنا شروع کیا اور پوچھنے لگے کہ تم ہو کیا؟ پھر اس کے علاوہ جو کسر رہ گئی تھی وہ حکومت پاکستان کے غیر منصفانہ لٹریچر نے پوری کر دی کیونکہ ان کے لٹریچر کی طرز ہی ایسی ہے جس سے ایک معقول آدمی کو یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ضرور دال میں کا لا ہے۔کوئی ایسی بات ہے کہ ایک طرف جماعت احمدیہ کے متعلق یہ لوگ کہتے ہیں کہ بس تھوڑے سے ہیں سوسال میں زور لگانے کے باوجود ستر ہزار سے زیادہ نہیں بڑھ سکے اور ادھر ان سے کتنی بڑی کروڑوں کی حکومت خائف ہو جائے نہ صرف یہ بلکہ سارے عالم اسلام کے لئے خطرہ قرار دیا جائے ، یہ اتنی نا معقول بات ہے جسے ہر آدمی تو ہضم نہیں کر سکتا اس لئے اس مضمون کو پڑھنے کے نتیجہ میں ایک ایسا آدمی بھی جس کو جماعت کے