خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 552

خطبات طاہر جلد۴ 552 خطبه جمعه ۲۱ / جون ۱۹۸۵ء جماعت کو اطلاع دے چکا ہوں اور گزشتہ کسی خطبہ میں میں نے یہ بتایا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ خدا کا نشان ایک رنگ میں اس روز پورا ہو گیا لیکن بعد کی جو آنے والی اطلاعیں ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک رنگ والی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی یہ بیان فرمودہ خبر پوری ہوئی اور اس کے اور بھی بہت سے پہلو سامنے آئے ہیں۔چنانچہ جو اطلاعیں ہمیں ملی تھیں وہ تو احباب جماعت کراچی کی طرف سے اس وقت کی اطلاعیں تھیں لیکن بعد کے اخبارات کے جو تراشے موصول ہوئے ہیں نہ صرف یہ کہ ان سے اس خبر کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے اور اس واقعہ کا غیر معمولی پن بھی واضح ہوتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو احمدیت کے شدید معاند ہیں ان کے منہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ اقرار کروایا کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں، یہ کوئی حادثاتی بات نہیں بلکہ خدا کی طرف سے یہ ایک بڑی بھاری تنبیہ ہے اور اس کے علاوہ پاکستان کی شمالی سرحد پر بھی ایک واقعہ رونما ہوا جس کو غیر معمولی اہمیت دی گئی اور اسے بھی ایک آنے والے خطرے کے نشان کے طور پر پیش کیا گیا اور یہ واقعہ بھی دس جمعۃ المبارک رمضان شریف ہی کو ہوا۔چنانچہ جو اخبار کے تراشے آئے ہیں ان میں اس موضوع پر بڑے بڑے مضامین چھپے ہیں، شہ سرخیاں جمائی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ یہ کوئی بہت ہی غیر معمولی اور نہایت ہی خوفناک واقعہ تھا۔” جنگ لنڈن نے تو یہ خبر اس سرخی کے تابع شائع کی کہ کراچی میں طوفان کے خطرے نے افراتفری مچادی۔ساحلی علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد گھروں سے نکل بھاگی۔ڈان (Dawn) نے شہ سرخی جمائی Cyclone Threat “ اور اس پر ایک لمبی خبر شائع کی جو ایک صفحہ پر نہیں بلکہ دوسرے صفحہ پر بھی جاری رہی اور اسی طرح ایک مضمون شائع کیا جس کے اوپر یہ عنوان لگا تھا Panic Grips Krachi اور ان دونوں مضامین کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھوکھا آدمی متاثر ہوئے تھے اور اپنا سب کچھ گھروں پر اسی طرح چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور تمام ذرائع کو بروئے عمل لا کر حکومت کو بڑی محنت کے ساتھ ان علاقوں کی نگرانی کروانی پڑی۔تمام نیوی کی کشتیاں، پولیس کی کشتیاں جو نیول پولیس کی کشتیاں ہیں وہ سارے علاقے میں پھیل گئیں اور پولیس بھی گشت کرنے لگی لیکن اتنی Panic تھی کہ چور بھی وہاں باقی نہیں رہے وہ بھی بھاگ گئے ورنہ عموماً تھوڑی Panic کے وقت تو چوروں کی موجیں ہو جایا کرتی ہیں، وہ کہتے ہیں کوئی بات نہیں دیکھی