خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 387
خطبات طاہر جلدم 387 خطبه جمعه ۲۶ ر ا پریل ۱۹۸۵ء جائے میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے۔“ گویا کہ تمام عیسائی ممالک کے خلاف ایک سازش ہورہی ہے اور ان کا یہ حال ہے کہ قوم کو فرضی خطرات میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں اور حقیقی خطرات سے بالکل نابلد ہیں۔انہیں یہ نظر ہی نہیں آرہا کہ خطرہ ہے کہاں اور کس طرف سے آنے والا ہے اور اگر علم ہے بھی تو پھر ان خطرات سے قوم کی توجہ عمداً اور مجرم کے طور پر ہٹا رہے ہیں۔یعنی جماعت احمد یہ جو اسلام کے لئے دنیا کو فتح کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے وہ تو ان کے لئے شدید خطرہ ہے اور عیسائیت جس کے متعلق آنحضرت ﷺ کو خود اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اسلام کے لئے سب سے بڑا خطرہ بننے والا ہے اور وہ دجال بن کر تمام دنیا پر چھا جائیں گے ان سے کلیہ غافل ہیں بلکہ ان کے مددگار بن رہے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ روک کر ( یعنی روکنے کی کوشش کر کے ،روک تو کوئی نہیں سکتا ) جب انہوں نے یہ دیکھا کہ دنیا میں ان کی بدنامی ہورہی ہے اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ عجیب حکومت ہے جو نظریات پر پابندی لگا رہی ہے اور آزادی ضمیر کا گلا گھونٹ رہی ہے تو اس کا اعلاج انہوں نے یہ کیا کہ ایک طرف تو ہمارا جلسہ سالانہ تک ان سے برداشت نہیں ہورہا تھا اور وہ بند کیا ہوا تھا اور دوسری طرف پاکستان ٹیلی ویژن پر پادری آکر با قاعدہ عیسائیت کی تبلیغ کر رہے تھے اور یسوع مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہے تھے۔اس طریق عمل سے ان کا دوغلہ پن بھی ثابت ہو جاتا ہے اور ان کے الزامات کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان غلط اقدام کرے تو اس سے غلط نتیجے نکلتے ہیں۔جب جماعت احمدیہ کی تبلیغ ایک خطرہ بنا کر روکنے کی کوشش کی تو ساری دنیا میں ایک شور پڑا کہ یہ کیا ظلم کر رہے ہو۔تو یہ ظاہر کرنے کی خاطر کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ہم تو آزادی ضمیر کے محافظ ہیں انہوں نے عیسائیوں کو چھٹی دے دی بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ واقعہ ہوا کہ اس (So Called نام نہاد اسلامی حکومت کے ماتحت با قاعدہ ٹیلی ویژن پر عیسائیت کی تبلیغ کی گئی اور یسوع مسیح کو بطور نجات دہندہ کے پیش کیا گیا لیکن ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں اگر انہوں نے ہماری پشت پر سے حملے کرنے ہیں تو کرتے چلے جائیں۔ہمارا رخ تو اسلام دشمن طاقتوں کی طرف ہے ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔