خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 383
خطبات طاہر جلدم 383 خطبه جمعه ۲۶ راپریل ۱۹۸۵ء سپینش کریکٹر جو ہمارے ملک میں ڈان کیفائے نام سے مشہور ہے یاد آ گیا۔ان کا بھی بالکل وہی حال ہے کہ ایک پن چکی دیکھی تو اسے دنیا کا ایک بہت خوفناک دیو سمجھ کر اس پر حملہ کر دیا، بیچاری معصوم بھیڑریں گھاس چر رہی تھیں تو ان کو دشمن کی ایک بہت خوفناک فوج سمجھا اور نیزہ تان کر ، گھوڑا سرپٹ دوڑا کر ان پر حملہ کیا اور ان میں سے بہت سی بھیڑریں مار ڈالیں۔پس تمہارے بھی اسی قسم کے فرضی خطرات ہیں۔اسی قسم کے تمہارے حملہ آور ہیں اور پھر تمہارا سلوک بھی ان بیچاروں سے ویسا ہی ظالمانہ ہے۔چنانچہ اس سازش کے نتیجہ میں جور د عمل ہوا وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ دشمن کون سا تھا اور کیسے پکڑا گیا۔بلوچستان پر قبضہ کرنے کی جو خوفناک سازش ( بقول ان کے ) جماعت احمدیہ کی طرف سے کی گئی اس کو انہوں نے اس طرح کچلا کہ وہاں میجر محمود احمد صاحب پاکستان آرمی میں ڈاکٹر ہوا کرتے تھے ، وہ نہایت بے ضرر اور لوگوں کی جان بچانے والے تھے، وہ بیچارے ایک جلسہ سن کر واپس آ رہے تھے ، وہ اس وقت بالکل نہتے تھے ان پر حملہ کیا گیا اور پتھراؤ کر کے بڑے ظالمانہ طور پر شہید کر دیا گیا۔گویا اس طرح انہوں نے اس سازش کو ہمیشہ کے لئے کچل دیا جو بلوچستان کے خلاف جماعت احمدیہ نے بنائی تھی اور اسی سرزمین پر قضیہ بھی طے ہو گیا۔اس معصوم انسان ( میجر محمود احمد صاحب) سے تو کسی کو بھی کوئی خطرہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ تھا۔وہ تو وقف کی روح کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والا نہایت ہی شریف النفس انسان تھا۔اگر کوئی رات کو بھی بلاتا تو وہ بے دریغ جایا کرتا تھا، اس کا مقصد تو مریضوں کی جان بچانا تھا تم نے اس پر حملہ کر کے گویا بلوچستان کی جان احمدیت سے چھڑا دی۔حقیقت تو یہ ہے کہ تم فرضی کہانیوں میں بسنے والے لوگ ہو۔تمہارا حقائق سے کوئی بھی تعلق نہیں اور جو حقیقی خطرات ہیں ان سے تم کلیۂ بے پرواہ ہو چکے ہو تمہیں علم ہی نہیں کہ وہ خطرات کیا ہیں تم تو ان کی طرف سے آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہو۔لیکن جہاں تک جماعت احمدیہ کی طرف سے خطرہ کا تعلق ہے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بلوچستان کو فتح کرنے کی سازش تو بہت چھوٹی سی بات ہے۔اگر آپ ہمارے ہی لٹریچر کا مطالعہ کر لیتے اور مولویوں کی کتابوں سے اعتراض مستعار لے کر اپنے سیاہ نامے میں شامل نہ کرتے تو