خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 25

خطبات طاہر جلدم 25 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۸۵ء کا حال تو اللہ بہتر جانتا ہے اور اسی دلوں کے حال جاننے والے نے ہمیں خبر دے دی ہے، اپنے پاک کلام میں کہ جہاں تک دعوی کا تعلق ہے تم وہیں تک رہا کرواس سے آگے نہ بڑھا کرو۔دلوں کا حال میں بہتر جانتا ہے اور میں تمہیں باخبر کرتا ہوں کہ مذہبی دیوا نے بعض ایسے بھی پاگل ہوتے ہیں کہ نہایت مکروہ اور بد کام کرتے ہیں ، نہایت بھیانک اعمال رکھتے ہیں اور سمجھ رہے ہوتے ہیں اپنی بیوقوفی میں کہ ہم بہت ہی اچھے کام کر رہے ہیں۔پس مذہبی دنیا کی تاریخ پر جب آپ نظر ڈالتے ہیں اور حق اور باطل کی جنگ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دونوں طرف اسی قسم کے دیوانے دکھائی دینگے اور یہ عجیب منظر نظر آئے گا کہ ہر شخص دوسرے کو دیوانہ کہہ رہا ہوتا ہے۔انبیاء کو ان کے مخالفین دیوانہ کہہ رہے ہوتے ہیں اور خدا کہتا ہے کہ انبیاء کے مخالفین دیوانے ہیں اور اسی مضمون کو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ یوں بھی بیان فرماتا ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أُمِنُوْا كَمَا أَمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا أمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءِ وَلَكِنْ لَّا يَعْلَمُوْنَ (البقره:۱۴) کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ایمان لے آؤ جس طرح لوگ ایمان لا رہے ہیں تو جواب میں یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم اُسی طرح ایمان لے آئیں جیسے یہ بیوقوف، یہ پاگل ایمان لا رہے ہیں ،ان سے کہہ دو کہ تم خود ہی دیوانے ہو تم خود ہی بیوقوف ہو أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ خدا یہ اعلان کرتا ہے کہ خبردار یہ خود ہی بے وقوف اور دیوانے لوگ ہیں لیکن ان کو علم نہیں۔تو وہاں بھی لَّا يَعْلَمُونَ کہہ کر اُن کے دعوی کو اس رنگ میں نہیں جھٹلایا کہ جھوٹ بول رہے ہیں بلکہ یہ فرمایا کہ ہیں دھو کے میں مبتلا ، بیوقوف تو بہت بڑے ہیں لیکن پتہ نہیں کہ ہم بیوقوف ہیں۔تو ایسا بیوقوف جس کو یہ نہ پتہ ہو کہ میں بیوقوف ہوں اس کا انجام اس سے زیادہ بد ہوا کرتا ہے جس کو پتہ ہو کہ میں ایک غلط کام کر رہا ہوں اور اس بد انجام سے وہ اس لئے بچ نہیں سکتا کبھی کہ مجھے علم نہیں تھا کہ میں بیوقوف ہوں۔بیوقوفی کی لاعلمی ایک بہت بڑی بلا ہے۔اپنی جہالت کا شعور نہ رکھنا جہالت میں اضافہ کرنے کا موجب بنا کرتا ہے۔جولوگ بیچارے سادہ مزاج ہوں اور منکسر مزاج بھی ہوں بسا اوقات وہ جانتے ہیں کہ ہم سادہ مزاج ہیں اور تسلیم کر لیتے ہیں کہتے ہیں بھئی ہمیں تو زیادہ پتہ نہیں اگر ہم سے غلطی ہوگئی تو معاف