خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 309
خطبات طاہر جلدم 309 خطبه جمعه ۵ راپریل ۱۹۸۵ء رکھا تھا نیچے امام کے لئے ضروری تھا کہ وہ یہ دعاوی کرے۔اگر امامت کا دعویٰ تو کرتا اور یہ دعاوی نہ کرتا تو وہ جھوٹا ثابت ہوتا نہ کہ سچا۔اس صورت میں یہ ائمہ بھی جھوٹے ثابت ہوتے جنہوں نے یہ پیشگوئیاں کیں۔پس حضرت امام جعفر صادق ” کے اس قول کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا اقرار کرنا پڑے گا اور اگر تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان دعاوی کے نتیجہ میں جھوٹا قرار دیتے ہو تو پھر حضرت امام جعفر صادق کی سچائی اور بزرگی کا انکار بھی لازم آتا ہے۔لیکن دعاوی کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔امام خمینی صاحب جن کو اس وقت شیعہ نائب امامت کے مقام پر فائز سمجھتے ہیں وہ تو شیعہ ائمہ کے متعلق ، امام مہدی کے متعلق نہیں بلکہ عام شیعہ ائمہ کے متعلق کہتے ہیں: ”بے شک ہمارے مذہب کی لازمی باتوں میں سے یہ ہے کہ ائمہ کے مقام تک نہ تو کوئی مقرب فرشتہ پہنچتا ہے اور نہ کوئی نبی و مرسل“۔( ولایت فقیه یا حکومت اسلامی صفحه ۵۸ بحوالہ ” مینی صاحب اپنی تحریرات کے آئینہ میں از ڈاکٹر عبداللہ محمد العریب) حضرت شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نہ تو مسیح ہونے کا دعوی کیا اور نہ مہدی ہونے کا لیکن امت محمدیہ کے بزرگوں کو خدا نے جو بلند مقامات عطا فرمائے ہیں وہ اتنے عظیم الشان ہیں کہ آج کل کا عرفان سے عاری ظاہر پرست مولوی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔چنانچہ حضرت شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی " کے متعلق الشیخ نورالدین ابوالحسن علی بن یوسف بن جریر اپنی تأليف بهجة الاسرار کے صفحہ ۲۱ پر لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ عبدالقادر صاحب جیلانی نے فرمایا: الانس لهم مشايخ ، والجن لهم مشايخ، والملئكة لهم مشايخ، وانا شيخ الكل۔۔۔۔لا تقيسو نى باحد ولا تقيسو اعلى أحدا بهجة الاسرار و معدن الانوار لنور الدين الخمی حاشیه فتوح الغيب از عبد القادر جیلانی صفحه ۲۳ ) کہ انسانوں کے مشائخ ہیں ، جنوں کے بھی مشائخ ہیں اور ملائکہ کے بھی مشائخ ہیں اور میں شیخ الکل یعنی ان تمام کا شیخ ہوں مجھے کسی پر قیاس نہ کرو اور نہ مجھ پر کسی کو قیاس کرو۔